I love Gandhi but I love India more than Gandhi
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۳
۱۹۲۹ میں ہوا۔ وہ نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ ہندوؤں میں بھی اتنا زیادہ مقبول تھے کہ لوگ اپنے جھگڑوں کو طے کرنے کے لئے ان کے پاس آیا کرتے تھے۔ معاملہ کو سننے کے بعد وہ جو فیصلہ دے دیتے اس کو دونوں فریق بلا بحث مان لیتے ۔ اس علاقہ میں ہندوؤں کی اکثریت تھی مگر میرے والد کی نسبت سے کبھی کوئی فرقہ وارانہ مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔
والد صاحب ایک مثالی قسم کے نیک نفس اور فیاض آدمی تھے۔ علاقہ کے ہر شخص کی خاموش مدد کرتے رہتے تھے۔ مثلاً کسی شخص کا گھر بن رہا ہے اور اس کو لکڑی کی ضرورت ہے تو کہتے کہ جاؤ فلاں درخت سے اپنی ضرورت کے مطابق لکڑی کاٹ لو۔ اسی طرح اگر کسی شخص کی شادی ہے اور اس کو غلہ کی ضرورت ہے تو اس سے کہہ دیتے کہ تم کو جتنے چاول اور دال کی ضرورت ہے ہمارے یہاں سے لے جاؤ۔ ایک مرتبہ ہمارے دروازہ سے ہندوؤں کی ایک بارات گزری اس وقت رات ہو گئی تھی اور اندھیرا چھایا گیا تھا۔ والد صاحب نے کہا کہ اندھیرے میں آپ لوگ کہاں جائیں گے۔ رات کو ہمارے یہاں ٹھہریئے اور صبح کو چلے جایئے ۔ اس کے بعد پوری بارات کو ٹھہرا کر سب کے لئے کھانے پینے اور سونے کا انتظام کیا۔ جھگڑوں کو طے کرنے کے لئے ان کا طریقہ بڑا عجیب تھا۔ ہمارے گاؤں کے ایک طرف ہر یجنوں کا محلہ تھا۔ ایک دن دو ہر یجن خاندان آپس میں لڑ گئے۔ جھگڑا ہوتا رہا یہاں تک کہ شام ہو گئی۔ شام کو وہ لوگ اپنا جھگڑا طے کرنے کے لئے والد صاحب کے پاس آئے والد صاحب نے کہا کہ جب دن بھر تم جھگڑتے رہے تو تم نے کچھ کھایا پیا بھی نہیں ہو گا۔ پہلے کھاؤ پیو اس کے بعد جھگڑا طے کیا جائے گا۔ یہ کہہ کر ان کو راشن اور لکڑی دی اور کہا کہ تم لوگ اپنا کھانا پکاؤ اور سیر ہو کر کھاؤ۔ جب وہ لوگ کھاپی کر فارغ ہوئے تو جھگڑا اپنے آپ ختم ہو چکا تھا۔ اس کے بعد وہ لوگ خوش ہو کر اپنے گھر واپس چلے گئے۔
یہ وہ ماحول ہے جو ہمارے ملک میں ۱۹ ویں صدی کے آخر اور ۲۰ ویں صدی کے آغاز میں پایا جاتا تھا۔ اس وقت نہ صرف میرے والد صاحب بلکہ عام طور پر بستیوں کے بڑے لوگ اسی مزاج کے ہوا کرتے تھے۔ یہ ماحول مسلسل باقی رہا۔ حتی کہ ۷ ۲ ۱۹ کا انقلاب بھی اس ماحول کو برہم
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues