I love Gandhi but I love India more than Gandhi
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۴
نہ کر سکا۔ ۱۹۷۳ کے بعد کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہاں بطور مثال نقل کیا جاتا ہے۔ میرے گاؤں میں ایک مسلمان زمین دار تھے۔ وہ عمر میں مجھ سے چھوٹے تھے۔ ۱۹۹۲ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی بہادری نے ان کو غیر مصالحت پسند بنا دیا تھا۔ ان کے پاس لائسنس یافتہ بندوق بھی تھی۔ جس کو وہ اکثر اپنے ساتھ رکھتے تھے۔
ہمارے گاؤں سے ملا ہوا ایک اور گاؤں ہے جس کو بکیہ کہا جاتا ہے۔ یہاں ایک راجپوت چھتر دھاری سنگھ رہتے تھے۔ مذکورہ مسلمان زمیں دار اور چھتر دھاری سنگھ کے درمیان مال یا جائیداد کا کوئی جھگڑا نہ تھا۔ مگر غالباً دونوں میں انا کا ٹکراؤ ہوا اور باہم دشمنی قائم ہو گئی۔ غالباً ۱۹۲۶ کا واقعہ ہے ۔ دونوں بذریعہ ٹرین شہر اعظم گڑھ جا رہے تھے دونوں کی ملاقات ریلوے اسٹیشن (سنجر پور) میں ہوئی ۔ یہاں کسی بات پر دونوں کے درمیان تکرار ہو گئی۔ مسلمان زمیں دار حسب معمول اپنی بندوق اپنے ساتھ لئے ہوئے تھے۔ انھوں نے جوش میں آکر بندوق اٹھائی اور بے تکلف چھتر دھاری سنگھ پر گولی چلا دی۔ وہ فوراً ہی ہلاک ہو گئے۔
یہ خبر اچانک پورے علاقہ میں پھیل گئی۔ ہندو بہت بڑی تعداد میں چھتر دھاری سنگھ کے مکان کے پاس جمع ہو گئے۔ یہ ہندو غصہ میں بھرے ہوئے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ فوراً ہمارے گاؤں میں پہنچیں اور نہ صرف مذکورہ مسلمان سے بلکہ پورے گاؤں سے اس کا انتقام لیں۔ ہندوؤں کی یہ اشتعل بھیڑ اگر اس وقت ہمارے گاؤں میں داخل ہوتی جو کہ بکیہ سے بشکل ایک کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے تو یقیناً وہ لوگ پورے گاؤں کو آگ لگا دیتے۔ مگر عین اس وقت ایک غیر معمولی واقعہ ہوا مقتول چھتر دھاری سنگھ کا بھائی چتری سنگھ چٹان کی طرح ان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اس نے کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ہم بدلہ ضرور لیں گے مگر سارے مسلمانوں سے نہیں بلکہ صرف اس قاتل مسلمان سے جس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ ہمارا بدلہ بھی یہ نہیں ہو گا کہ ہم اس کے جواب میں قاتل مسلمان کو قتل کریں۔ ہم صرف یہ کریں گے کہ اس معاملہ کو عدالت میں لے جائیں گے اور وہاں قاتل مسلمان کو قانونی سزا دلوائیں گے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ مذکورہ مسلمان پر قتل کا مقدمہ چلا ان کو عدالت سے لمبی قید کی سزا دی گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues