Al-Risala · September 1999 · page 35

I love Gandhi but I love India more than Gandhi

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۵

یہ حال صرف ہمارے علاقہ کا نہیں تھا بلکہ پورے بر صغیر ہند میں ہندو اور مسلمان اسی طرح مل جل کر پر امن طور پر رہتے تھے۔ یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس کو میری جیسی عمر کے لاکھوں لوگوں نے اس ملک میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کا تجربہ کیا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان وہ تفریقی سیاست کیسے ابھری جس کا نتیجہ ملک کا بٹوارہ (۱۹۴۷) تھا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ملک کا بٹوارہ ہندوؤں اور مسلمانوں نے نہیں کروالیا۔ بلکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے کچھ لیڈروں نے کروالیا۔ یہ دو فرقوں کے عوام کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ وہ کچھ لیڈروں کا مسئلہ تھا۔ جنھوں نے عوام کے نام پر اپنی لیڈری کو فروغ دیا۔ ہند و اور مسلمان ابتدا ء اپنی فطرت پر تھے۔ فطرت کی رہنمائی عین وہی ہوتی ہے جس کی ایک جھلک مذکورہ واقعات میں نظر آتی ہے۔ اس کے بعد اخبارات کا دور آیا اور اخبارات کے ساتھ قیادتیں ابھرنے لگیں۔ اب فطرت لوگوں کی رہنما نہ رہی بلکہ لیڈر ان کار ہنما بن گیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہماری تمام سیاسی مصیبتوں کا آغاز ہوتا ہے۔

لیڈریا قائد کون بنتا ہے، یہ وہ افراد ہیں جن کے اندر عام لوگوں سے زیادہ ذہانت پائی جاتی ہو۔ اور یہ تجربہ ہے کہ جو آدمی زیادہ باصلاحیت اور زیادہ ذہین ہو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر انانیت پسند (egoist) بن جاتا ہے۔ چنانچہ ہر بڑا لیڈر لازمی طور پر انانیت پسند ہو تا ہے۔ بر صغیر ہند کے لیڈروں میں اس اعتبار سے غالباً صرف ایک قابل ذکر استثنا نظر آتا ہے اور وہ مہاتما گاندھی کا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر قومی المیے صرف ایک سبب سے پیدا ہوئے ۔ اور وہ دو لیڈروں کے درمیان انا کا ٹکراؤ (ego clash) ہے۔ مثال کے طور پر ۱۹۷۱ء میں مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کا ٹوٹ کر دو ٹکڑے ہو جانا زیادہ تر ذوالفقارعلی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمٰن کے درمیان اسی انا کے ٹکراؤ کا نتیجہ تھا۔ اسی طرح کشمیر کا مسئلہ بروقت طے نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ شیخ محمد عبد اللہ اور مسٹر محمد علی جناح کے درمیان انا کا ٹکراؤ پیش آگیا وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page