I love Gandhi but I love India more than Gandhi
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۶
اس حیثیت سے بر صغیر ہند کی سیاست کا مطالعہ نہایت عبرت انگیز ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک کا بٹوارہ ہندو مسلم عوام نے نہیں کیا بلکہ ہندو مسلم عوام کے نام پر ہندو مسلم لیڈروں نے کیا۔ یہ لیڈر اپنی انا کے خول کے باہر نہ آ سکے یہاں تک کہ ان کی انانیت پسندی کی قیمت ملک کو نہایت مہنگی صورت میں دینی پڑی۔
جب بھی کچھ آدمی مل جل کر رہیں گے تو ان کے درمیان لازمی طور پر کچھ ناخوشگوار واقعات پیش آئیں گے، ایک فرقہ اور دوسرے فرقہ میں بھی اور خود ایک فرقہ کے اندر بھی۔ اس قسم کی ناخوشگوار صورت حال سے بچنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ ایسی حالت میں سماج کے اندر اتحاد قائم رکھنے کا راز کیا ہے وہ صرف ایک ہے، اور وہ اعراض (avoidance) اور ٹالرنس ہے۔ ناخوشگوار صورت حال پیدا ہو نہ پر اگر اعراض کا انداز اختیار کیا جائے تو اتحاد باقی رہے گا اور اگر اعراض نہ کیا جائے تو لوگوں کی انانیت بھڑک اٹھے گی اور پورا سماج اختلاف اور انتشار کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔
اس سلسلہ کی ایک علامتی مثال یہ ہے کہ مسٹر محمد علی جناح انگلینڈ جانے سے پہلے تک کانگریس میں شامل تھے ایک بار ایسا ہوا کہ کانگریس کا سالانہ اجلاس ہو رہا تھا۔ مہاتما گاندھی اور دوسرے لیڈروں کے ساتھ مسٹر محمد علی جناح بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ اپنی باری پر وہ تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو عام مزاج کے مطابق، انھوں نے اپنی تقریر کا آغاز اسٹیج پر بیٹھی ہوئی ممتاز شخصیتوں کے نام سے کرنا چاہا۔ چنانچہ انھوں نے کہا: مسٹر گاندھی۔ یہ سن کر بعض کانگریسی بگڑ گئے۔ انھوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کہو، ہم مسٹر گاندھی نہیں سن سکتے۔ جناح صاحب ایک لمحہ کے لئے رکے۔ اس کے بعد انھوں نے دوبارہ تقریر شروع کی تو پھر یہی کہا کہ مسٹر گاندھی تھی۔ اب مذکورہ کانگریسی دوبارہ اپنی مانگ لے کر کھڑے ہو گئے۔ اور انھوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کہو۔ اس کے بعد جناح صاحب نے اپنی تقریر روک دی ۔ وہ خاموشی کے ساتھ اسٹیج سے اترے اور اپنے گھر واپس آگئے۔
یہ بحران نہایت آسانی کے ساتھ ٹل سکتا تھا۔ اس کی صورت یہ تھی کہ مہاتما گاندھی
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues