Al-Risala · September 1999 · page 37

I love Gandhi but I love India more than Gandhi

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۷

کھڑے ہو کر کہتے کہ جناح صاحب مجھ سے سینئر ہیں۔ ان کو حق ہے کہ وہ مجھ کو مسٹر گاندھی کے لفظ سے خطاب کریں۔ اگر مہاتما گاندھی بروقت ایسا کرتے تو یہ تعطل فوراً ختم ہوجاتا۔ اور اجلاس کی کارروائی معمول کے مطابق جاری ہو جاتی۔

مگر ایسا نہیں ہوا۔ مسٹر محمد علی جناح اس واقعہ کے جلدی ہی بعد لندن چلے گئے۔ کچھ عرصہ بعد وہ واپس آئے۔ اب انھوں نے کانگریس کو چھوڑ کر مسلم لیگ میں شرکت کرلی۔ جلد ہی وہ مسلم لیگ کے سب سے بڑے قائد بن گئے۔

یہ بلاشبہ ایگو کا مسئلہ تھا۔ جناح صاحب اگر رعایت کا انداز اختیار کرتے تو وہ دوسری بار مہاتما گاندھی کہہ سکتے تھے مگر جب آدمی کی انا بھڑک اٹھے تو اس کے بعد اس کے اندر سے رعایت کا ذہن ختم ہو جاتا ہے۔ وہ معاملہ کو اپنے وقار کا معاملہ بنا لیتا ہے۔ اور جہاں وہ قاری کی نفسیات بھڑک اٹھے وہاں وہی ہو تا جو عملاً ہماری تاریخ میں پیش آیا۔ (اس سلسلہ میں مہاتما گاندھی کا رویہ قابل تعریف ہے۔ چنانچہ انھوں نے جناح صاحب کو خط لکھا تو لوگوں کے اختلاف کے باوجود انھوں نے جناح صاحب کو قائد اعظم کے لفظ سے خطاب کیا)

اسی انانیت کی ایک مثال وہ ہے جو پنڈت جواہر لعل نہرو کے یہاں پائی جاتی ہے اس مثال کو مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب آزادی ہند (India Wins Freedom) میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ۱۹۳۶ کے الیکشن میں ایک معاہدہ کے تحت مسلم لیگ نے کانگریس کی حمایت کی تھی۔ اس معاہدہ کا ایک جزء یہ تھا کہ یوپی کیبنٹ میں جو مسلمان وزیر بنایا جائے گا وہ مسلم لیگ کا آدمی ہوگا۔ الیکشن میں کانگریس کو بھاری جیت ہوئی اس وقت جواہر لعل نہرو د کا نگریس کے صدر تھے۔ انہوں نے فتح کے جوش میں یہ اعلان کر دیا کہ یوپی میں ہم خود اپنی پسند کی وزارت بنائیں گے۔ مسلم لیگ کا کوئی آدمی ہم اس میں شامل نہیں کریں گے۔ اس اعلان کے بعد سنجیدہ لوگوں نے جواہر لعل نہرو کو سمجھانے کی کوشش کی مگر مذکورہ اعلان کے بعد وہ ان کے لئے وقار کا مسئلہ بن گیا۔ چنانچہ وہ اپنے اعلان سے پھرنے پر راضی نہ ہوئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم لیگ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page