I love Gandhi but I love India more than Gandhi
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۸
کے نمائندہ عبد الرب نشتر کے بجائے کانگریس کے نمائندہ حافظ محمد ابراہیم کو یوپی وزارت میں مسلمان کی سیٹ دی گئی۔
جیسا کہ معلوم ہے ۱۹۳۶ میں کانگریس اور مسلم لیگ ایک دوسرے کے قریب آچکے تھے اور بظاہر بٹوارہ کا معاملہ ٹل گیا تھا مگر جواہر لال نہرو کی خودرائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم لیگی لیڈر بھڑک اٹھے۔ وہ دوبارہ کانگریس سے دور ہوگئے یہاں تک کہ ملک دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ حدیث میں آیا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی اور مجوسی اور نصرانی بنا دیتے ہیں (صحیح البخاری، کتاب الجنائز) اس بات کو توسیع دیتے ہوئے میں کہوں گا کہ عام انسان ہمیشہ صحیح فطرت پر ہوتے ہیں۔ پھر ان کے لیڈر ان کو بہکا کر غیر فطری راستوں پر ڈال دیتے ہیں۔
بر صغیر ہند کے مسلمانوں اور ہندوؤں میں اگر وہ لیڈر نہ ابھرتے جن کا نام بد قسمتی سے ملک کی تاریخ میں ہیرو کے طور پر لکھا ہوا ہے تو یقینی طور پر ملک کا نقشہ آج سے بہت زیادہ بہتر ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر مسٹر لیڈر مسٹر ایگو ہوتا ہے، اور ہر مسٹر ایگو یہ کرتا ہے کہ اپنی ذات کی خاطر وہ پوری قوم کو داؤ پر چڑھادیتا ہے۔ جس سماج میں اس قسم کے لیڈر موجود نہ ہوں وہاں خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت لوگوں کی رہنما ہوگی اور فطرت بلاشبہ صحیح ترین رہنما ہے۔ وہ رہنمائی میں کبھی غلطی نہیں کرتی۔
انڈیا میں ہندو اور مسلمان کے درمیان جو مسئلہ ہے اس کا بڑا سبب سیاسی تاریخ ہے۔ یہ زیادہ تر مسلم حکمرانوں کی وراثت ہے جس کو بعد کی مسلم نسلیں بھگت رہی ہیں۔ اس کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کی یہ صورت حال زیادہ تر شمالی ہند میں ہے، جنوبی ہند کا علاقہ اس برائی سے اب تک پاک رہا ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ مسلم حکمرانوں اور ہندو راجاؤں کے درمیان لڑائیاں زیادہ تر شمالی ہند میں ہوئیں۔ جنوبی ہند کا علاقہ بڑی حد تک اس قسم کی خونیں داستانوں سے محفوظ رہا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues