I love Gandhi but I love India more than Gandhi
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۹
ہندوؤں کی باتیں سننے یا ان کی کتابیں پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں انھیں سب سے زیادہ شکایت مسلم حکمرانوں سے ہے، خاص طور پر اورنگ زیب سے۔ مثلاً ان حکمرانوں کا یہ فعل کہ انھوں نے اپنے دور حکومت میں کئی مندروں کو توڑا اور اس کی جگہ مساجد بنائیں۔ جہاں تک اس الزام کی تاریخی حیثیت کا تعلق ہے، تو اس سے انکار کرنا مشکل ہے۔ یہاں میں اس سلسلہ میں صرف ایک حوالہ دیتا ہوں۔
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے والد محترم مولانا حکیم سید عبدالحی کی ایک کتاب ہے۔ یہ کتاب مجلس تحقیقات و نشریاتِ اسلام (نَدْوہ لکھنؤ) سے ۱۹۳۷ء میں شائع کی گئی ہے اس کتاب کا نام یہ ہے ”ہندوستان اسلامی عہد میں“ اس کتاب کے ساتھ مولانا ابوالحسن علی ندوی کا ایک مبسوط مقدمہ شامل ہے۔ مولانا نے اپنے اس مقدمہ میں مذکورہ کتاب کو مسلم عہد کے ہندوستان کی صحیح تصویر اور مکمل دستاویز قرار دیا ہے (صفحہ ۱۷)
اس کتاب میں، بابری مسجد سمیت کئی مسجدوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ مندروں کو توڑ کر عین اسی جگہ بنائی گئیں۔ مثلاً بابری مسجد کی بابت اس کتاب میں یہ الفاظ درج ہیں: کہا جاتا ہے کہ سیتا کا یہاں ایک مندر تھا، جہاں وہ رہتیں، اور اپنے شوہر کے لئے کھانا پکاتی تھیں، اسی جگہ بابر نے ۹۲۳ھ میں یہ مسجد تعمیر کی (صفحہ ۱۳۱)
اس کتاب میں اس طرح کی متعدد مسجدوں کا تذکرہ ہے جو ہندو عبادت گاہوں کی جگہ بنائی گئیں مثلاً ”عالمگیری مسجدیں“ کے زیر عنوان بتایا گیا ہے: کہا جاتا ہے کہ بنارس کی مسجد عالمگیر نے بنارس کے بیشتور مندر کی جگہ بنائی تھی۔ وہ مندر بہت بلند اور ہندوؤں میں مقدس تھا، اس نے اس کی جگہ انہی پتھروں سے بلند مسجد تعمیر کی، اور اس کے قدیم پتھر کو دیواروں میں معکوس کر کے نصب کر دیئے ۔ (صفحہ ۱۳۶)
اس قسم کے واقعات جو مغل عہد میں پیش آئے ان کے بارے میں ہندو مصنفین اور مسلم مصنفین دونوں عام طور پر غیر منصفانہ انداز اختیار کرتے ہیں۔ ہندو مصنفین عام طور پر ان واقعات میں اضافہ کر کے ان کو مزید سنسنی خیز انداز میں پیش کرتے ہیں۔ دوسری طرف مسلم مصنفین یا تو
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues