I love Gandhi but I love India more than Gandhi
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۰
ان کو گھٹا کر پیش کرتے ہیں یا سرے سے ان کی واقعیت کا انکار کر دیتے ہیں۔ مگر یہ دونوں ہی طریقے اس معاملہ میں غیر مفید ہیں۔
اس معاملہ کے تصفیہ کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہ ۱۹۴۷ء سے پہلے کی گئی اور نہ ۱۹۴۷ء کے بعد۔ ضرورت تھی کہ اس مسئلہ پر ایک مستقل کمیشن بنایا جاتا جو ہندو مورخین اور مسلم مورخین پر مشتمل ہوتا۔ وہ اس قسم کی نزاعی عبادت گاہوں کا جائزہ لے کر باضابطہ رپورٹ پیش کرتا اور قانون اور شریعت کی روشنی میں اس کا حل بتاتا۔ اس کے بعد ہندو اور مسلمان دونوں طرف کے ذمہ داروں کے دستخط سے ایک معاہدہ کیا جاتا اور آربٹریشن ایکٹ کے تحت اس پر عدالتی تصدیق حاصل کرلی جاتی۔ اس طرح یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو سکتا تھا۔ مگر بد قسمتی سے اس نوعیت کی کوئی مؤثر کوشش اس معاملہ میں نہ کی جاسکی۔
۱۹۴۷ء میں جب ہندوستان ایک آزاد ملک بنا، اس وقت ملک کے باشندوں کی تعداد ۳۶ کرور تھی اس وقت وزیراعظم پنڈت جوہر لال نہرو نے کہا کہ ہندوستان کا ہر آدمی ایک مسئلہ ہے، اس طرح ہندوستان ۳۶ کرور مسائل سے دوچار ہے، پنڈت نہرو نے یہاں کے باشندوں کو مسائل کے روپ میں دیکھا۔ اس لئے ان کے بارے میں وہ صحیح منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ اگر وہ ان باشندوں کو اثاثہ (asset) کے روپ میں دیکھتے تو ان کی منصوبہ بندی بالکل مختلف ہوتی۔ ہندوستانی باشندوں کو اثاثہ کے روپ میں دیکھنے کے بعد ان کے اندر یہ سوچ ابھرتی کہ ملک میں ایسے اسباب پیدا کئے جائیں کہ یہ لوگ اس میں اپنا استعمال پاسکیں۔ ہر انسان پیدائشی طور پر ایک ہیرو ہوتا ہے لیکن اس کو اپنے ہیروانا کردار کو ادا کرنے کے لئے موافق خارجی اسباب کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر اس قسم کے خارجی اسباب حاصل ہوں تو ہر آدمی اس کے اندر عمل کرکے ہیرو بن جائے گا۔ اور اگر موافق اسباب نہ ملیں تو یہی انسان زیرو کے روپ میں دکھائی دینے لگے گا۔
اس معاملہ کی ایک عملی مثال خود ہندوستانی باشندوں کی صورت میں موجود ہے۔ یہ لوگ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues