Al-Risala · September 1999 · page 41

I love Gandhi but I love India more than Gandhi

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۱

جب اپنے ملک میں ہوتے ہیں تو عام طور پر وہ کوئی بڑا کام نہیں کرتے۔ لیکن جب یہی لوگ امریکہ اور یورپ کے ترقی یافتہ ملکوں میں جاتے ہیں تو اچانک وہاں وہ ہیرو کی طرح کام کرنے لگتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہر گوند کھور انا جب ہندوستان میں تھے تو یہاں وہ کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکے۔ انھوں نے دلی یونیورسٹی میں لیکچر شپ کے لئے درخواست دی مگر وہ یونیورسٹی میں اس عہدہ کے لئے نااہل سمجھے گئے۔ اس کے بعد مسٹر کھورانا امریکہ چلے گئے۔ وہاں انھیں ہر قسم کے علمی اور سائنسی مواقع ملے جس میں وہ اپنی صلاحیتوں کا استعمال پاسکیں۔ اب انھوں نے محنت شروع کردی۔ اس کے بعد یہی ہر گوند کھورانا ممتاز سائنسی پروفیسر بن گئے۔ اور آخر کار اپنی غیر معمولی تحقیقات کے نتیجہ میں انھیں نوبل انعام سے سرفراز کیا گیا۔

میں نے اپنے بیرونی سفروں کے درمیان کئی ہندوستانیوں سے پوچھا کہ آپ لوگ باہر آکر جس محنت اور لگن کے ساتھ کام کرتے ہیں اسی محنت اور لگن کے ساتھ انڈیا میں کام کریں تو وہاں بھی آپ بڑی بڑی ترقیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ ان ہندوستانیوں میں سے تقریباً ہر ایک نے میری رائے سے اتفاق کیا۔ مگر انھوں نے کہا کہ انڈیا میں اور ان ترقی یافتہ ملکوں میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ یہاں جب ہم کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہر طرف ہمارے لئے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ ایک طرف یہ کہ جب ہم اپنا کوئی منصوبہ لے کر اٹھتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی تکمیل کے تمام ضروری اسباب بہترین طور پر یہاں موجود ہیں۔ دوسری طرف یہ کہ یہاں جب ہم محنت کرتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو لگاتے ہیں تو ہم کو یقین ہوتا ہے کہ ہمیں اس کی پوری قیمت ملے گی۔ جب کہ انڈیا میں ان دونوں میں سے کوئی بھی چیز موجود نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اپنے وطن میں اگر یہ دونوں چیزیں ہمیں مل جائیں تو شاید ہم میں سے کوئی بھی شخص بد لیش میں رہنا پسند نہ کرے۔

پانی کے بہاؤ کے لئے پانی کو دھکیلنا نہیں پڑتا۔ پانی اپنے آپ بہتا ہے اگر آپ پانی کو جاری کرنا چاہیں تو صرف یہ کیجئے کہ اس کے لئے راستہ بنا دیجئے ۔ اس کے بعد پانی اپنے آپ بہنے لگے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page