I love Gandhi but I love India more than Gandhi
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۲
یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ انسان خود اپنی فطرت کے مطابق، ترقی کی طرف دوڑنا چاہتا ہے۔ اگر اس کو نظر آئے کہ یہاں میرے لئے مواقع موجود ہیں تو وہ اپنے آپ ترقی کی منزل کی طرف رواں دواں ہو جائے گا۔
آزادی کے بعد ہمارے سیاسی لیڈروں کو صرف یہ کرنا تھا کہ وہ ملک میں ترقیاتی سرگرمیوں کے لئے وہ اسباب مہیا کریں جن کو موجودہ زمانہ میں انفراسٹرکچر کہا جاتا ہے---ملک میں وقت کے معیار کے مطابق اچھی سڑکیں بنائیں۔ بجلی اور ٹیلی فون کا عمدہ نظام قائم کریں، ہر بستی میں ٹرانسپورٹ کی قابل اعتماد سہولتیں مہیا کریں۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے لئے اچھے ادارے بنائیں۔ ہر جگہ معیاری لائبریریاں قائم کریں۔ دیہاتوں میں بھی کام کی وہی سہولتیں مہیا کریں جو شہروں میں پائی جاتی ہیں، وغیرہ۔
اسی کے ساتھ ان کو یہ کرنا تھا کہ وہ ملک میں ایسی انتظامیہ (ایڈمنسٹریشن) قائم کریں جہاں رشوت اور بدعنوانی کے بغیر ہر کام ہو سکے۔ ہر شہری کو یہ یقین ہو کہ وہ ایک ایسے نظام کے تحت جی رہا ہے جہاں اس کا جائز حق اس کو ملے گا، اس کا حق کبھی مارا نہیں جائے گا۔ ہر ایک کو پیشگی طور پر یہ اطمینان حاصل ہو کہ اگر اس نے اہلیت اور قابلیت کا ثبوت دیا تو ضرور وہ اس کی قیمت پائے گا۔ ہر ایک کو یہ اعتماد ہو کہ اگر اس کے ساتھ کوئی بے انصافی ہوئی تو وہ عدالت میں جا کر وہاں سے بھر پور انصاف حاصل کر سکتا ہے: ہر ایک پیشگی طور پر یہ یقین رکھتا ہو کہ میں ایک ایسے نظام کے تحت جی رہا ہوں جس میں ہر ایک برابر کی حیثیت رکھتا ہے، عزت کے اعتبار سے بھی اور حقوق کے اعتبار سے بھی۔ بمبئی کے ایک تاجر مہیش بھائی شاہ نے بجا طور پر کہا: سرکار کا کام دھندا کرنا نہیں ہے، سرکار کا کام دھندا کرنے والوں کو اور سر مہیا کرنا ہے۔
اس قسم کا نظام کوئی یوٹوپیا نہیں، وہ عملاً آج بھی ان ملکوں میں قائم ہے جن کو ترقی یافتہ ملک کہا جاتا ہے۔ یہی وہ اصل کشش ہے جو لاکھوں ہندوستانیوں کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ اپنا وطن چھوڑ کر ان بدیسی ملکوں میں چلے جائیں۔ آزادی کے بعد ہمارے حکمرانوں کا اصل کام یہی تھا کہ وہ انڈیا کو اسی قسم کے مواقع اور انفراسٹرکچر والا ملک بنائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues