I love Gandhi but I love India more than Gandhi
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۳
اس کے بعد ہمارے حکمراں دیکھتے کہ وہ کروڑوں ہندوستانی جن کو انھوں نے بطور خود مسئلہ فرض کر رکھا ہے وہ ملک کے لئے قیمتی اثاثہ اور سرمایہ ہیں۔ مگر ملک کی آزادی کے بعد ہمارے حکمراں نے قیمتی پچاس سال بے فائدہ سرگرمیوں میں کھودیئے۔ مثلاً نان آئنڈ موومنٹ کھڑی کرنا، پلک سیکٹر بنانا، مالیاتی اداروں کو نیشنلائز کرنا، قوانین میں اضافہ کرنا وغیرہ۔ وہ اسی قسم کی بے فائدہ سرگرمیوں میں مشغول رہے۔ اور آخر کار ہمارے حصہ میں ایک برباد ملک کے سوا اور کچھ نہ آیا۔
۱۸ ستمبر ۱۹۹۸ کو ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ وہ دہلی کے ایک بزنس گروپ میں بڑے افسر ہیں۔ انہوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ ہندوستان پچھلے پچاس سال میں بہت زیادہ ترقی کر چکا ہو تا اگر ایک چیز نے اس کی ترقی کو روک دیا اور وہ سرکاری قانون قاعدے کی بھر مار ہے۔ ہم لوگ جو بزنس کرتے ہیں، ہمیں ایسا محسوس ہو تا ہے کہ ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ہم کوئی بھی چھوٹایا بڑا کام سرکار کی منظوری کے بغیر نہیں کر سکتے، حتیٰ کہ لبرلائزیشن کے بعد بھی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہرو کے زمانہ میں جو سوشلسٹ اسکیم چلائی گئی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر کام میں سرکاری افسروں اور سرکاری اداروں کا دخل ہو گیا۔ جو لوگ ان دفتروں میں قلم لئے ہوئے بیٹھے تھے انھوں نے محسوس کیا کہ ان کے دستخط کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا آدمی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ انھوں نے اپنی منظوری کی قیمت وصول کرنا شروع کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو کہ سارا سماج رشوت کا جنگل بن گیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ میں نے کہا کہ ہمارے ملک میں گاندھی اور نہرو کو سب سے اونچا درجہ حاصل ہے مگر میرے نزدیک یہی دونوں شخصیات ہیں جنھوں نے ملک کی آزادی کو بربادی میں تبدیل کر دیا ہے۔ گاندھی کا عدم تشدد کا ہتھیار عملاً ملک میں لا قانونیت کو فروغ دینے کا سبب بنا اور نہرو کے سرکاری کنٹرول نے سارے ملک کو رشوت اور بد عنوانی کی جال میں اس طرح پھنسا دیا کہ آپ بظاہر اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues