Marxism a rejected idealogy
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۷
تقسیم (۱۹۴۷) کے بعد سرحد کے دونوں طرف ملک کی تعمیر نو کے نام پر دو مختلف تحریکیں چلائی گئیں۔ ہندوستان میں اس تحریک کا عنوان تھا: سوشلشک پیٹرن آف سوسائٹی۔ اور پاکستان میں اس تحریک کا عنوان تھا: اسلامک پیٹرن آف سوسائٹی۔ نام کے اعتبار سے دونوں تحریکیں بظاہر ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دونوں کا انجام ایک ہوا۔ اور وہ یہ کہ دونوں ہی تحریکیں کسی تعمیری انجام تک نہ پہنچ سکیں۔
جنوری ۱۹۵۵ میں آوڈی (مدراس) میں کانگریس کا ڈائمنڈ جوبلی سشن ہوا۔ اس سشن میں اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی قیادت میں متفقہ طور پر یہ ریزولیوشن پاس ہوا کہ ہندوستان میں سوشلسٹ طرز کا سماج بنایا جائے گا۔
میں اول دن سے اس نظریہ کا مخالف تھا۔ میں نے اس کے بعد ہی اس موضوع پر ایک کتاب کی تیاری شروع کردی۔ سوشلزم اور مارکسزم کو سمجھنے کے لئے میں نے دس ہزار سے زیادہ صفحات پڑھے۔ اس کے بعد میں نے وہ کتاب لکھی جو پہلی بار اپریل ۱۹۵۹ میں چھپی۔ اس کتاب کا نام تھا۔ مارکسزم تاریخ جس کو رد کر چکی ہے :
Marxism a rejected idealogy
پنڈت جواہر لال نہرو اس وقت پورے ملک کے واحد سب سے بڑے لیڈر تھے۔ انھوں نے اپنی پوری طاقت اس تجویز کو زیر عمل لانے میں لگادی۔ پانچ سالہ منصوبے وضع کئے گئے۔ پبلک سکٹر ( صحیح تر لفظ میں گورنمنٹ سکٹر ) کے نام سے دیو پیکر صنعتی ادارے قائم ہوئے۔ ہزاروں کی تعداد میں ایکٹ اور ضابطے بنائے گئے۔ یوجنا بھون اور وکاس بھون جیسے ناموں سے بہت سی ہمالیائی عمارتیں کھڑی کی گئیں۔ ملک کی پوری اقتصادیات کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر گورنمنٹ کے کنٹرول میں لے لیا گیا۔ ان سارے رومانی منصوبوں کو وقوع میں لانے کے لئے ملک کے اوپر بھاری ٹیکس لاد دیئے گئے۔ اس نام نہاد ”سوشلسٹ ماڈل“ کے اوپر ملک ۴۰ سال سے زیادہ مدت تک چلتا رہا۔
مگر اس انتہائی مہنگے منصوبے کا جو نتیجہ نکلا اس کو سی راج گوپال اچاری نے لائسنس پرمٹ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues