Marxism a rejected idealogy
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۵
راج کا نام دیا تھا۔ تاہم راج گوپال اچاری (وفات 1972) یہ دیکھنے کے لئے زندہ نہ رہے کہ نہرو کا لائسنس پر مٹ راج مزید ترقی کر کے لیتھار جی اور کرپشن کا راج بن گیا۔ نام نہاد نیشنلائزیشن کے نظام نے لوگوں کو عمومی طور پر کاہل بنا دیا۔ زندگی کے تمام شعبوں کو سرکاری آدمیوں کے ہاتھ میں دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر طرف ناقابل بیان حد تک رشوت اور کرپشن کا بازار گرم ہو گیا۔ نہرو کے سوشلسٹ نظام نے ملک میں بے شمار کلرکوں کی ایک فوج بنائی اور پھر قوم کو کلرکوں کی اس بے رحم فوج کے حوالہ کر دیا۔ نئے نظام کے تحت ان کو اتنے اختیارات حاصل تھے کہ ہر کلرک گویا کہ ایک گورنر تھا۔
اس سوشلسٹ نظام نے ملک کو طرح طرح کے مہلک نقصان پہنچائے۔ مثلاً اس نظام کے نتیجہ میں ٹریڈ یونین جیسی تحریکیں وجود میں آئیں جنھوں نے پورے کارکن طبقہ کو اور آخر کار پورے سماج کو ڈیوٹی کے بجائے حقوق پر نظر رکھنے والا بنا دیا۔ اس طرح ملکی صنعت کی ترقی کے نام پر اس کو غیر فطری تحفظ دیا گیا۔ اس کے نتیجہ میں ملک کا مارکیٹ غیر معیاری سامانوسے بھر گیا۔ اس نے بھی زیادہ بڑا نقصان یہ ہوا کہ اسمگلنگ کا جال سارے ملک میں پھیل گیا۔ حوالہ سسٹم کی صورت میں کرنسی کی ایک ایسی غیر قانونی تجارت وجود میں آگئی جو قانونی مالیاتی اداروں کے حجم سے بھی زیادہ بڑی تھی اس کے نتیجہ میں کھربوں کی بیرونی کرنسی ملک میں داخل ہوئے بغیر باہر ہی باہر فرخت ہو گئی۔
۲ جولائی 1998 کو حبیب محمد صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ حیدر آباد کے ایک تاجر ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ میں ایک صنعتی ادارہ چلاتا ہوں۔ اس کو چلانے کے لئے مجھے تقریباً ۴۵ سرکاری کھڑکیوں (windows) پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ ان میں سے ہر دندو کو مجھے پر سیکیونٹ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس صورت حال نے مجھے اتنا پریشان کیا کہ اب میں نے اپنا کاروبار تقریباً ختم کر دیا ہے۔
اس کے بعد انھوں نے کہا کہ حال ہی میں امریکہ گیا تھا۔ وہاں میں ایک مہینہ رہ کر واپس آیا ہوں۔ وہاں میں نے دیکھا کہ حکومت نے اپنے شہریوں کو ہر قسم کی سہولت دے رکھی ہے آپ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues