Marxism a rejected idealogy
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۶
کو کسی سرکاری ونڈو پر لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ وہاں کھلا مقابلہ ہے وہاں آپ کو صرف ایک کام کرنا ہے۔ مقابلہ میں اپنے آپ کو اہل ثابت کیجئے اور جتنی چاہے ترقی کرتے چلے جائیے ۔ انہوں نے کہا کہ اب میں نے طے کیا ہے کہ اپنے بچہ کو امریکہ بھیج کر وہاں سٹل کراؤں۔ حبیب محمد صاحب کی یہ گفتگو سن کے مجھے ۳۵ سال پہلے کا ایک واقعہ یاد آیا۔ میرے بھائی عبدالعزیز خاں مرحوم جو یوپی میں ایک تجارتی ادارہ چلاتے تھے، وہ اپنے کسی کام کے لئے اسی قسم کی ایک سرکاری ونڈو پر گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ونڈو کے پیچھے بیٹھے ہوئے کلرک نے کچھ رعونت دکھائی۔ اس پر میرے بھائی نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ یہاں کے گورنر ہیں۔ ونڈو کے پیچھے سے ایک متکبرانہ آواز آئی : اس میں کیا شک ہے، اس آفس میں تو میں ہی گورنر ہوں۔
یہ تھا وہ پر عذاب اور ترقی شکن نظام جو جواہر لَالَ نہرو اور ان کے سوشلسٹ ساتھیوں نے اس ملک میں قائم کیا۔ نہرو کے ذہن میں نوجوانی کی عمر سے ایک سوشلسٹ خواب تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندوستان کی حکومت پر قبضہ کر کے یہاں کی تمام چیزوں کو سرکاری کنٹرول میں لے لیں اور پھر حکومتی طاقت سے ایک نیا انڈیا بنائیں ۔ اس خود ساختہ نئے انڈیا کی تعمیر کے لئے وہ اتنا زیادہ بے تاب تھے کہ اس کے قیام کا جلد موقع حاصل کرنے کے لئے انھوں نے ملک کی تقسیم کو منظور کر لیا۔ مگر آزادی کے بعد جب ان کا نام نہاد سوشلسٹ نظام قائم ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ صرف ایک ایسا مصنوعی نظام تھا جو بے رحم شکنجہ بن کر خود ترقی کے عمل ہی کوروک دیا۔ ۱۹۹۲ میں بابری مسجد کے ڈھائے جانے سے پہلے اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے مجھے بابری مسجد کے بارے میں بات چیت کے لئے بلایا تھا۔ پرائم منسٹر ہاؤس میں جب ان سے میری ملاقات ہوئی تو میں بے اختیار رو پڑا۔ میں نے کہا کہ بابری مسجد کو بچانے سے بھی بڑا مسئلہ ملک کو بچانا ہے۔ جواہر لال نہرو کے نام نہاد سوشلم نے ملک کو تباہی کے آخری کنارے پر پہنچا دیا ہے ۔ آپ اگر کچھ کر سکتے ہیں تو اس اقتصادی عذاب سے ملک کو نجات دیجئے ۔ اس کے بعد لبرلائزیشن کا وہ واقعہ وجود میں آیا جس کو عام طور پر ڈاکٹر من موہن سنگھ کی طرف منسوب کیا جاتا
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues