Marxism a rejected idealogy
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۷
ہے جو اس وقت کی نرسمہا راؤ گورنمنٹ میں وزیر مالیات تھے۔
سوشلسٹ ماڈل کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ وہ اس عالم اسباب میں قابل بقا (sustainable) نہ تھا۔ اسکے لئے ہندوستان میں بھی اسی طرح ٹوٹنا مقدر تھا جس طرح وہ سوویت یونین میں ٹوٹ گیا۔ کسی ملک کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کو ایسے دور اندیش لیڈر ملیں جو قوم کو ایسا نظام دے سکیں جو قابل بقا ہو۔ کسی بھی نظام کا پورا نتیجہ "نصف صدی" میں نکلتا ہے۔ اگر نصف صدی گزرنے کے بعد یہ معلوم ہو کہ چلایا جانے والا منصوبہ بے نتیجہ رہا تو نصف صدی کھو کر قوم کو اپنا سفر از سر نو پیچھے سے شروع کرنا پڑے گا۔
پاکستان کے قیام کے بعد وہاں جو نشانہ اختیار کیا گیا وہ بظاہر ایک صحیح نشانہ تھا، یعنی اسلامک پیٹرن آف سوسائٹی کا قیام مگر نتیجہ کا بر عکس صورت میں نکلنا بتاتا ہے کہ اس نعرہ میں کوئی بنیادی غلطی تھی اس لئے اس معاملہ کا بے لاگ جائزہ ضروری ہے تاکہ اس نقصان کا کم سے کم وہ فائدہ ہو جس کو فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: من نکردم شما خذ اکبنید۔ تاکہ اس تجربہ سے اگر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا تو کم از کم اس کے سبق سے بعد کے لوگ محروم نہ رہیں ۔ جیسا کہ معلوم ہے، مولانا شبیر احمد عثمانی (وفات ۱۹۴۹) پاکستان کے سرگرم حامیوں میں سے تھے۔ پاکستان کے قیام کے بعد وہ کراچی چلے گئے۔ پاکستان میں جو دستور ساز اسمبلی بنائی گئی اس کے وہ ایک اہم رکن تھے۔ دستور ساز اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے انہوں نے داخلی طور پر اپنا پورا زور اس پر ڈال دیا کہ پاکستان کا دستور اسلامی اصولوں پر بنایا جائے۔ داخلی اعتبار سے مولانا شبیر احمد عثمانی کی کوشش اور خارجی اعتبار سے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور دوسرے علماء کی تقریری اور تحریری مہم کا یہ نتیجہ ہوا کہ ۱۹۴۹ میں دستور ساز اسمبلی نے قرارداد مقاصد (Obectives reso-) (lution کو منظوری دے دی۔ اس قرارداد مقاصد کے الفاظ شریعت کی روشنی میں وضع کئے گئے تھے۔ اس کا استقبال مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے یہ کہہ کر کیا کہ پاکستان کی ریاست نے اب کلمہ پڑھ لیا ہے۔ حالانکہ زیادہ صحیح یہ تھا کہ وہ اعلان کرتے کہ ہم پاکستانیوں کے دلوں پر تو اسلام نہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues