Marxism a rejected idealogy
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۸
لکھ سکے البتہ ہم نے اسمبلی کے کے کاغذ پر اسلام کا نام تحریر کر دیا۔
اس کے بعد نفاذِ شریعت کے حصول کی مہم شروع ہوئی۔ اس مہم کے نتیجہ میں پاکستان دو طبقوں میں بٹ گیا۔ ایک حکمران طبقہ اور دوسرا غیر حکمران طبقہ ۔ حکمران طبقہ تقریباً سب کا سب سیکولر ذہن کا تھا۔ وہ سیکولر نظام بنانے کا حامی تھا۔ دوسری طرف غیر حکمران طبقہ اسلامی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کر رہا تھا۔ اس کے نتیجہ میں دونوں طبقوں کے در میان زبردست ٹکراؤ ہوا۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان قتل کئے گئے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر پھانسی دی گئی۔ جلسوں اور مظاہروں کے دوران بہت سے لوگ زخمی ہوئے یا مارے گئے۔ اس ہنگامہ خیز سیاست کے نتیجہ میں پاکستان میں اقتصادی ترقی کا عمل ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ اسلام کے نام پر جو پر شور سیاست پاکستان میں چلائی گئی اس کا آخری نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں نہ سیکولر نظام قائم ہوا اور نہ اسلامی نظام ۔ بلکہ ان دونوں کے سوا ایک تیسری چیز ظہور میں آئی ، اور وہ تھی خانہ جنگی اور انار کی ۔
کیوں ایسا ہوا کہ اسلام کے نام پر چلائی جانے والی مہم کا نتیجہ غیر اسلام کی صورت میں بر آمد ہوا۔ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اسلامی نظام کے نام پر پاکستان میں جو پر شور تحریک چلائی گئی وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک جذباتی ہنگامہ تھا نہ کہ صحیح معنوں میں کوئی سوچی سمجھی تحریک۔ اور کوئی حقیقی نتیجہ ہمیشہ سوچی سمجھی تحریک کے ذریعہ نکلتا ہے نہ کہ جذباتی ہنگاموں سے۔ اکتوبر ۱۹۷۰ء میں پاکستان میں عام انتخابات ہوئے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی قیادت میں جماعت اسلامی پاکستان نے بھی اس میں حصہ لیا۔
مولانا مودودی کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام الٹ ہو چکا ہے (اور شاید اسلام خود ان لوگوں کے نام) جماعت اسلامی پاکستان نے نہایت زور و شور کے ساتھ الکشن میں حصہ لیا۔ الکشن کے خاتمہ کے بعد ۱۹۷۱ء میں جب میں پاکستان گیا اس وقت میں نے دیکھا کہ اب بھی لاہور کی دیواروں پر ایسے پوسٹر موجود ہیں جن کے اوپر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں: انشاء اللہ جیتے گی جماعت اسلامی جیتے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues