Marxism a rejected idealogy
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۹
اس موقع پر جماعت اسلامی پاکستان نے ایک لمبا انتخابی منشور شائع کیا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد وہ لوگ کس طرح پاکستان کو اسلامائز کریں گے ۔ اس مفصل منشور کا ایک جز یہ تھا: اتوار کے بجائے جمعہ کو تعطیل مقرر کی جائے گی (الجمعیتہ ویکلی، دہلی، ۶ مارچ ۱۹۷۰)
جماعت اسلامی پاکستان اس الیکشن میں بری طرح ہار گئی ۔ تاہم اس نے اور دوسرے پاکستانی علماء نے اتوار کے بجائے جمعہ کی چھٹی کی مانگ عوامی سطح پر بدستور جاری رکھی یہاں تک کہ پاکستان کے فوجی صدر جنرل محمد ضیاء الحق (وفات ۱۹۸۸) نے ایک صدارتی حکم کے ذریعہ اتوار کی چھٹی منسوخ کر دی اور اس کے بجائے جمعہ کے دن کو سارے پاکستان میں سرکاری تعطیل کا دن قرار دے دیا۔
”اسلامی تعطیل“ کا یہ تجربہ چند سال کے بعد سخت تنقیدوں کا شکار ہو گیا۔ خاص طور پر تاجر طبقہ اس کی کھلی مخالفت کرنے لگا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس ”اسلامی تعطیل“ کے نتیجہ میں پاکستان کو ہفتہ میں دو دن کا اقتصادی نقصان برداشت کرنا پڑتا تھا۔ پاکستان کے تجارتی ادارے جمعہ کو چھٹی کرتے تھے جب کہ ساری دنیا اس دن تجارتی سرگرمیوں میں مشغول ہوتی تھی۔ اس کے بعد پاکستان کے تجارتی ادارے اتوار کو اپنے دفاتر کھولتے تھے جب کہ ساری دنیا اس دن اپنے دفتروں کو بند کئے ہوئے ہوتی تھی ۔ آخر کار ۱۹۹۷ میں نواز شریف کی حکومت نے ایک حکم کے ذریعہ جمعہ کی چھٹی منسوخ کر دی اور اس کے بجائے اتوار کے دن کی چھٹی کو بحال کر دیا۔ اس عجیب و غریب صورت حال کا ایک معکوس نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے لوگ یہ سمجھنے لگے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس میں وقت کا ساتھ دینے کی طاقت نہیں ۔ حالانکہ ”جمعہ کی چھٹی“ کا اسلام سے کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ یہ کچھ سیاسی ہنگامہ پسندوں کا ایک طبع زاد شوشہ تھا کہ اسلام کا کوئی حکم۔
قرآن کی سورۃ ۶۲ اس معاملہ میں ایک واضح رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سورہ میں جمعہ کے آداب بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : اے ایمان والو، جب جمعہ کے دن کی نماز کے لئے پکارا
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues