وارثِ انبیاء حسین احمد که بدیں مستعار مو تمن است
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۵
کیا کہ انگریزوں سے مسلح ٹکراؤ عملی طور پر غیر مفید ہے۔ اب واحد قابلِ عمل صورت یہ ہے کہ جنگ اور ٹکراؤ کو چھوڑ کر پر امن عمل کے میدان میں کوئی تعمیری کام شروع کیا جائے۔ اسلام کی روشنی میں انہیں نظر آیا کہ یہ کام صرف علم اور تعلیم کا کام ہے۔ چنانچہ علماء نے یہ فیصلہ کیا کہ انگریزوں سے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر وہ قوم کو تعلیم یافتہ بنانے میں اپنی ساری طاقت صرف کریں۔
اس نئے ذہن کے تحت انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں پورے برصغیر ہند میں مدارس کی تحریک پھیل گئی۔ داخلی اور خارجی حالات اس کے موافق ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ تحریک مدارس بڑھتے بڑھتے اب تحریکِ انقلاب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
میں اپنی ابتدائی عمری سے علماء اور تحریکِ مدارس سے بہت قریب رہا ہوں۔ میرے والد کا انتقال ۱۹۲۹ میں بچپن ہی میں ہو گیا تھا۔ اس لئے میرے عم زاد بھائی مولانا اقبال احمد خاں سہیل ایڈوکیٹ، ایم، اے، ایل ایل بی ہی گویا میرے خاندانی سر پرست تھے۔ وہ نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، وہ علماء کے بہت عقیدت مند تھے۔ انھوں نے مشہور عالم اور بزرگ مولانا حسین احمد مدنی کی تعریف میں ایک نظم لکھی تھی جس کا ایک شعر یہ تھا:
وارثِ انبیاء حسین احمد که بدیں مستعار مو تمن است
تقسیم ہند سے پہلے کے دور میں دو قومی نظریہ کا ہنگامہ اٹھا۔ مولانا حسین احمد مدنی نے اس کا جواب دیتے ہوئے ۱۹۳۷ میں کہا کہ "نئی زمانہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں“۔ اس کے رد میں علامہ اقبال نے اپنا مشہور فارسی قطعہ لکھا جس کا پہلا شعر یہ تھا:
عجم ہنوز نہ داند رموزِ دیں ورنہ زدیو بند حسین احمد ایں چہ بو لہی است اس وقت اقبال احمد سہیل ایڈوکیٹ نے فارسی نظم کی صورت میں اس کا مدلل جواب دیا، جس کے دو شعر یہ ہیں: به دیو بند گرا، گر نجات می طلبی که دیو نفس سلخ شور و دانش تو سبی است بگیر راه حسین احمد ار خدا خوانی که وارث است نبی را و هم زآل نبی است برادر بزرگ مولانا اقبال احمد سہیل مرحوم سے مجھے زندگی کی پہلی سوچ ملی۔ چنانچہ نوجوانی کی عمری میں علماء اور تحریکِ مدارس سے میرا رشتہ جڑ چکا تھا جو پھر کبھی ختم نہ ہوا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues