وارثِ انبیاء حسین احمد که بدیں مستعار مو تمن است
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۶
مدرسہ کی دنیا سے مسلسل میرا ربط رہا ہے۔ میری تعلیم مدرسہ ہی میں ہوئی۔ مدارس سے وابستہ افراد سے مسلسل میری ملاقاتیں رہی ہیں۔ میں بار بار مدارس کے اجتماعات اور پروگراموں میں شریک ہوتا رہا، وہ غیرہ مگر باضابطہ طور پر میں نے ابھی تک مدارس کے بارہ میں نہیں لکھا تھا۔ اس موضوع پر میری متفرق تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں مگر ابھی تک اس موضوع پر میں نے مستقل کتاب تیار نہیں کی تھی۔ مختلف مدارس سے تعلق رکھنے والے علماء اکثر مجھ سے یہ کہتے تھے کہ آپ مدارس کے بارے میں۔ میں ایک کتاب یا مفصل مقالہ لکھیں۔ مگر اب تک میں یہ کام نہیں کر سکا تھا۔ آخر کار مئی ۲۰۰۰ء میں ایسے اسباب پیدا ہوئے جس کے نتیجہ میں وہ کتاب تیار ہوئی جو اس وقت ناظرین کے سامنے ہے۔ تنظیم ابناء قدیم دارالعلوم دیوبند کی طرف سے مجھے ایک دعوت نامہ مورخہ ۹ مئی ۲۰۰۰ موصول ہوا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ نئی دہلی میں ۲۰۔ ۲۲ مئی ۲۰۰۰ کو "الامام محمد قاسم النانوتوی سیمنار" کے عنوان پر ایک بین اقوامی اجتماع ہو رہا ہے۔ تنظیم کے ذمہ داروں کی طرف سے مجھے یہ دعوت دی گئی تھی کہ میں اس کے افتتاحی اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کروں اور ہندوستان میں مدارس دینیہ کی تحریک کے موضوع پر وہاں خطاب کروں۔ اس کے بعد دہلی کے کئی فضلاء مدارس مجھ سے ملے۔ مثلاً مولانا عمید الزماں کیرانوی، مولانا محمد مزمل الحق الحسینی، مولانا بدر الزماں قاسمی، مولانا وارث مظہری قاسمی، وغیرہ۔ ان صاحبان نے اس کام کی طرف خصوصی توجہ دلائی۔ ان کی تحریک پر میں نے آخری فیصلہ کر لیا اور اس موضوع پر مطالعہ و تحریر کا کام شروع کر دیا۔ مذکورہ سیمنار میں پیش کرنے کے لئے جو تقریر میں نے تیار کی تھی وہ ابتداء صرف ۱۰ صفحات پر مشتمل تھی۔ اس کے بعد موضوع کی مزید تحقیق کے دوران اس میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ ۸۰ صفحات کی یہ کتاب تیار ہو گئی۔ یہ کتاب ابتداء اردو میں شائع کی جارہی ہے۔ اس کے بعد انشاء اللہ دوسری زبانوں میں بھی اس کی اشاعت کی جائے گی، وباللہ التوفیق۔
نئی دہلی، ۱۹ جولائی، ۲۰۰۰ء وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues