دینی مدارس
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۲
دینی مدارس
انیسویں صدی کے وسط سے لے کر اب تک برصغیر ہند میں جو دینی یا اسلامی سرگرمیاں جاری ہوئیں ان میں غالباً سب سے اہم سرگرمی وہ تھی جس کو دینی مدارس کی تحریک کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کے قائد زیادہ تر علماء تھے۔ ان کی مسلسل کوشش سے اس پورے خطہ ارض میں مدارس کا جال (network) قائم ہو گیا۔ چھوٹے بڑے مدارس اتنی کثرت سے وجود میں آئے کہ شاید کوئی بھی علاقہ اس سے خالی نہیں رہا۔ علماءِ اسلام نے صرف یہی نہیں کیا کہ ادارہ کی صورت میں باقاعدہ مدرسے قائم کئے، اسی کے ساتھ ان کی ذات بھی مسلسل طور پر لوگوں کے لئے علم اور تعلیم کا مرجع بنی رہی۔ حتیٰ کہ یہ گویا علماء کی روایت بن گئی کہ ان کا گھر لوگوں کے لئے تعلیم گاہ کا کام کرنے لگا۔ میں خود بھی مدرسہ کی باقاعدہ تعلیم کے علاوہ اپنی زندگی کے بیشتر حصہ میں مسلسل طور پر علماء اسلام سے وابستہ رہا ہوں۔ اور ان سے برابر علمی اور دینی استفادہ کرتا رہا ہوں۔
علم کی اہمیت
اسلام میں علم کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اللہ کی شریعت پیغمبروں کے اوپر کتاب کی صورت میں اتاری گئی اور قلم کے ذریعہ اس کو لکھا گیا (العلق ۴۔ ۵)۔ یہ قلم اور کتاب دونوں علم ہی کی علامت ہیں۔ وحی کو قلم اور کتاب سے وابستہ کرنا بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ دین خدا وندی کی بنیاد علم پر قائم کی گئی ہے۔
قرآن میں علم کی دو قسمیں بتائی گئی ہیں۔ یہ دو قسمیں اس آیت سے معلوم ہوتی ہیں: (یعنی بكتاب من قبل هذا أو أثارة من علم إن كنتم صدقين (الاحقاف ۴) یعنی میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب لے آکیا کوئی علم جو چلا آتا ہو، اگر تم سچے ہو۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق، علم کا پہلا ماخذ آسمانی کتاب ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں الہامی علم (revealed knowledge) کہا جاسکتا ہے۔ یہاں الہامی علم سے مراد وہ الہامی علم ہے جو تاریخی طور پر ثابت شدہ ہو۔ محض دعوئیٰ کی بنیاد پر کوئی علم الہامی علم نہیں ہو سکتا۔ اس اعتبار سے آج
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues