Al-Risala · September 2000 · page 13

دینی مدارس

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۳

قرآن ہی الہامی علم کے حقیقی نمائندہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری مقدس کتا بیں، تاریخی طور پر ثابت شدہ نہ ہونے کی بنا پر الہامی علم کے لئے معتبر ماخذ کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ دوسرا علم وہ ہے جس کے لئے قرآن میں اثارۃ من علم کا لفظ آیا ہے۔ اثر کے معنی ہیں نقل کرنا۔ ”آثارۃ “ کی تشریح ”المفردات فی غریب القرآن ، الامام راغب “ میں ان الفاظ میں کی گئی ہے: وہو ما یروی أو یکتب فیبقى له اثر (صفحہ ۹) یعنی اس سے مراد وہ علم ہے جس کی روایت کی جائے یا جس کو لکھا جائے پھر اس کا اثر باقی رہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ اس سے مراد غالباً وہ مبنی بر فطرت علم ہے جس کو موجودہ زمانہ میں مصدقہ علم (verified knowledge) کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ علم جو مسلسل تحقیق اور مشاہدہ اور تجربہ سے درست ثابت ہو یہاں تک کہ اہل علم کے درمیان اس کو عمومی قبولیت (general acceptance) حاصل ہو جائے۔ ان دونوں قسم کے علوم کو دوسرے لفظوں میں الہامی علم اور سائنسی علم کہا جا سکتا ہے۔

قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں ہی علم انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: إتقوا الله ويعلمكم الله (البقره ۲۸۲) یعنی اللہ سے ڈرو اور اللہ تم کو سکھائے گا۔ قرآن کی اس آیت میں علم کا تعلق تقویٰ سے بتایا گیا ہے۔ یعنی جو آدمی اپنے اندر تقویٰ کی صفت پیدا کرے گا وہ علم سے بہرہ ور ہوگا۔ تقویٰ آدمی کے اندر سنجید گی پیدا کرتا ہے۔ اور کامیاب علمی سفر میں سنجیدگی لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔

دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: و من الجبال جدد بيض وحمر مختلف الوانها وغرابيب سود، ومن الناس والدواب والانعام مختلف الوانه كذلك، انما يخشى الله من عباده العلماء (فاطر ۲۷-۲۸) یعنی اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ رنگوں کے ٹکڑے ہیں اور گہرے سیاہ بھی۔ اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔

اس آیت میں پہاڑ اور جانور (دوسرے لفظوں میں جمادات اور حیوانات) فطرت کے مظاہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ فطرت کے مظاہر کا مطالعہ بھی اسی طرح خشیت اور تقویٰ کا

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page