دینی مدارس
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۴
سرچشمہ ہے جس طرح الہامی کتاب کا مطالعہ۔
علم کی دو قسموں کی اس اہمیت کا تقاضا تھا کہ مدارس کے نصاب میں دو قسم کی کتابیں رکھی جائیں۔ چنانچہ علماء نے ایسا ہی کیا۔ انھوں نے ایک کو منقولات کہا اور دوسری کو معقولات۔ یہ تقسیم شرعی اور عقلی دونوں اعتبار سے بالکل درست ہے۔
مدرسہ یا تعلیم گاہ کے بارے میں قرآن کا تصور کیا ہے، اس کا جواب ہم کو قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: وما كان المؤمنون لينفروا كافة فلولا نفر من كل فرقة منهم طائفة ليتفقهوا في الدين ولينذروا قومهم اذا رجعوا اليهم لعلهم يحذرون (التوبہ ۱۲۲) یعنی اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان سب کے سب نکل کھڑے ہوں۔ تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ سے ایک حصہ نکل کر آتا تا کہ وہ دین میں سمجھ پیدا کرتا اور واپس جاکر اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا تا کہ وہ بھی پرہیز کرنے والے بنتے۔
قرآن کی اس آیت میں تفقه فی الدین کا لفظ تقریباً اسی معنی میں آیا ہے جس معنی میں علم دین کے حصول کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اس آیت کے مطابق، علم دین کے حصول کے مقاصد بنیادی طور پر دو ہیں۔ ایک یہ کہ طالب علم خود بخوبی طور پر اسلام کی تعلیمات سے واقف ہو۔ اس کی رسائی ان معارف و حقائق تک ہو جائے جو قرآن و سنت میں بیان کئے گئے ہیں۔ اس کا دوسرا مقصد وہ ہے جس کو انذار قوم کہا گیا ہے یعنی پر امن طور پر تمام انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچانا۔ ہر پیدا ہونے والے انسان کو اس ہدایت سے باخبر کرنا جو خالق کائنات نے اسلام کی صورت میں نازل فرمائی ہے۔
انہی دو طرفہ تقاضوں کا یہ نتیجہ ہے کہ مدارس دینیہ میں ابتدائی ہی سے یہ تصور رہا ہے کہ ان مدارس کے فارغین بیک وقت دو صفات کے حامل ہوں۔ وہ عالم بھی ہوں اور اسی کے ساتھ داعی بھی۔ ایک طرف وہ علم دین میں قابل اعتماد دستگاه حاصل کریں اور دوسری طرف وہ اپنی پڑوسی قوموں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues