Al-Risala · September 2000 · page 15

تحریکِ مدارس کا آغاز

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۵

تحت

تحریکِ مدارس کا آغاز

۱۹ ویں صدی عیسوی میں برصغیر ہند کے مسلمان بیک وقت کئی سنگین مسائل سے دوچار ہوئے۔ ایک طرف لمبی مدت سے قائم شدہ مسلمانوں کا سیاسی اقتدار ختم ہو گیا۔ دوسری طرف برٹش حکومت نے ملک پر مکمل قبضہ کر لیا، وغیرہ۔ ان حالات میں مسلمان سخت ذہنی انتشار کا شکار تھے۔ ان کے سامنے کوئی واضح راہ عمل (line of action) موجود نہ تھی۔ ایسے نازک وقت میں علماء اسلام نے اللہ کی توفیق سے برصغیر ہند کے مسلمانوں کو سمت کا شعور (sense of direction) دیا۔ مسلم اقتدار کے خاتمہ کے بعد یہ علماء نئے دور میں مسلمانوں کی نشاۃ جدیدہ کے معمار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ نے ان کے لئے مقدر کر دیا تھا کہ وہ انیسویں صدی میں پیش آنے والے مسلم زوال کے نتائج کا براہِ راست مشاہدہ کریں تاکہ وہ نئے دور میں مسلمانوں کی حیات نو کی مبنی بر حقیقت منصوبہ بندی کر سکیں۔ علماء ہند نے مدارس کے قیام کے سلسلہ میں جو کوششیں کیں وہ انیسویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس مدت میں جو مدر سے قائم کئے گئے، ان میں سے صرف چند ابتدائی مدرس کا ذکر یہاں بطور مثال کیا جاتا ہے۔

١۔ دارالعلوم ۲۔ دارالعلوم ندوةالعلماء ۳۔ مدرسة الاصلاح دیوبند ١٨۶۶ لکھنؤ ١٨۹۳ سرائے میر، اعظم گڑھ ۱۹۰۹ ۴۔ مدرسہ باقیات الصالحات ۵۔ دارالعلوم خلیلیہ نظامیہ ۶۔ مدرسہ امینیہ ۷۔ مظاہر العلوم ۸۔ جامعہ دارالسلام ۹۔ جامعہ مظهر العلوم ۱۰۔ جامعہ عربیہ حیات العلوم ۱۸۸۳ ویلور، تامل ناڈو ۱۸۹۹ ٹونک ۱۸۹۷ دہلی ۱۸۴۶ سہارنپور ۱۹۲۳ عمر آباد ۱۸۹۳ بنارس ۱۸۹۹ مبارک پور

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page