Al-Risala · September 2000 · page 21

شریعت کی رہنمائی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۱

طریقہ صرف ایک بے نتیجہ عمل کا نام ہے، وہ کسی نتیجہ خیز عمل کا نام نہیں۔

پھر اس دنیا میں عمل کا طریقہ کیا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ رکاوٹوں کو نظر انداز کیا جائے اور پر امن عمل کے ذریعہ مواقع کو استعمال کیا جائے۔ قرآن کی شہادت کے مطابق، اس دنیا میں عصر کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ہمیشہ یسر موجود رہتا ہے۔ (الانشراح ۵)

قرآن کی اس آیت میں عصر سے مراد مسائل (problems) ہیں، اور یسر سے مراد مواقع (opportunities) ہیں۔ قانون فطرت کے مطابق، یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے (مع العسر یو جد اليسر، ابن کثیر)۔ ایسی حالت میں عمل کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ مسائل و مشکلات کو نظر انداز کیا جائے اور جو مواقع موجود ہیں ان کو غیر نزاعی انداز میں استعمال کیا جائے۔ مدارس دینیہ کی تحریک اسی حکیمانہ اصول کی ایک عملی مثال ہے۔ انیسویں صدی میں جو علماء اس تحریک کو لے کر اٹھے ان کی ایک سوچ یہ ہوسکتی تھی کہ پہلے موجودہ عصر کو ختم کرو۔ یعنی برطانی حکمرانوں کو ہلاک کرو۔ انگریزی نظام تعلیم کے ڈھانچہ کو تباہ کرو، وغیرہ۔ اس کے بعد ہی ہمارے لئے وہ وقت آسکتا ہے جب کہ ہم اپنی پسند کا تعلیمی نظام اس ملک میں قائم کریں۔

اگر ہمارے علماء کی یہ سوچ ہوتی تو ان کی یہ تحریک شروع ہو کر چند سال کے بعد ہی ختم ہو جاتی۔ اس کا کوئی مثبت نتیجہ ملت مسلمہ کو نہ ملتا، جیسا کہ اس قسم کی بہت سی تشدد دانہ تحریکوں کا کوئی مثبت فائدہ نہیں ملا۔ مگر علماء کو اللہ تعالیٰ نے یہ بصیرت (vision) دی کہ وہ دونوں طریقوں کے فرق کو سمجھیں ۔ چنانچہ انھوں نے تخریب غیر کے بے فائدہ کام کو چھوڑ کر تعمیر خویش کے مفید میدان میں اپنی ساری طاقت لگادی۔ اس کا نتیجہ اتنا کامیاب نکلا کہ یہ تحریک مذکورہ حدیث کی ایک عملی مثال بن گئی۔ حدیث مداومت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہمیشہ رہنے والا عمل، اگر چہ وہ کم ہو۔ اور آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے آپ کو ایسے عمل کا پابند بناؤ جس کی تم طاقت رکھتے ہو: عن عائشة رضى الله عنها قالت: سئل النبي صلى الله عليه وسلم: أي

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page