پرامن میدانِ عمل
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۳
قائم کرنے کا سبب بنے جو ان کے بعد مسلسل جاری رہی اور بے شمار لوگ اس روایت کو لے کر آگے بڑھتے رہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ ان علماء کی جاری کردہ تحریک مدارس اس ارشادِ رسول کی مصداق ہے : لا یسن عبد سنة صالحة يعمل بها بعده الا كتب له مثل اجر من عمل بها ولا ينقص من اجورهم شی (صحیح مسلم، کتاب العلم، صفحہ ۲۲۶)۔ یعنی جب بھی کوئی بندہ ایک صالح سنت کو جاری کرتا ہے جس پر اس کے بعد عمل کیا جائے تو اس کے لئے بھی اتناہی ثواب لکھ دیا جاتا ہے جتنا اس کے بعد عمل کرنے والوں کے لئے، اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ اس حدیث میں صالح سنت سے مراد صحت مند روایت(healthy tradition) ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان علماء کی جاری کردہ تحریک مدارس اسی قسم کی ایک صالح سنت تھی۔ اس لئے جن لوگوں نے اب تک اس روایت پر عمل کیا یا آئندہ جو لوگ اس پر عمل کریں گے ان سب کے اجر و ثواب کے بقدر اجر و ثواب اس کے ابتدائی معماروں کو بھی ملتا رہے گا، بغیر اس کے کہ بعد کو عمل کرنے والوں کے اجر و ثواب میں کوئی کمی کی گئی ہو۔
پرامن میدانِ عمل
انیسویں صدی عیسوی میں جب مغربی استعمار کا مسئلہ نمایاں طور پر سامنے آیا تو اس کے خلاف مسلم رہنماؤں کا پہلا ردِ عمل قشد دانہ تھا۔ چنانچہ انھوں نے انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد (۱۸۵۷) کیا۔ مگر یہ جہاد اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس تجربہ کے بعد انھوں نے اپنے طریقہ کار کو بدل دیا۔ یہ مسلح جہاد حکماً اگر چہ ایک اسلامی فعل تھا، مگر اجتماعی معاملات میں کسی اقدام کے بارے میں صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ حکماً وہ صحیح ہے یا نہیں۔ اسی کے ساتھ یہ دیکھنا بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ وہ عملی طور پر نتیجہ خیز ہے یا نہیں۔ ایک طریق کار، تجربہ کے بعد نتیجہ خیز ثابت نہ ہو تو عقل و شریعت کا تقاضا ہے کہ طریق کار کو بدل دیا جائے۔
مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے سردارانِ قریش سے بدر (۲ھ) کے مقام پر مسلح مقابلہ کیا۔ مگر اس کے بعد انہی سردارانِ قریش سے حدیبیہ (۶ھ) کے مقام پر صلح کرلی۔ اسی طرح غزوہ احد (۳ھ) کے موقع پر آپ نے مدینہ سے تین میل باہر نکل کر حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، مگر
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues