Al-Risala · September 2000 · page 24

پرامن میدانِ عمل

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۴

اس کے بعد انہیں حملہ آوروں سے غزوہ احزاب (۵ھ) کے موقع پر مدینہ کے اندر رہتے ہوئے دفاع کا انداز اختیار کیا، وغیرہ۔

اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح صالح مقصد کے لئے اقدام اٹھانا ایک پیغمبرانہ سنت ہے اسی طرح دفاعی تدبیر کو بدلنا بھی ایک پیغمبرانہ سنت ہے۔ دونوں کام یکساں طور پر اسلامی ہیں اور سنت رسول بھی۔ ہندوستان کے علماء نے اسی معلوم سنت پر عمل کیا چنانچہ انھوں نے مسلح جہاد کو غیر مؤثر دیکھ کر اپنے میدانِ کار کو بدل دیا۔ اور تعلیم کو اپنا میدان عمل بنالیا۔ گویا کہ مدرسہ ملی جدوجہد کو تشدد کے میدان سے نکال کر امن کے میدان میں لانے کا عنوان ہے۔

اس اعتبار سے یہ گویا پر تشدد عمل کے مقابلہ میں پر امن عمل کا انتخاب (choice) لینا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ان مسلم رہنماؤں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تشدد کے میدان میں اپنی کوششیں صرف کرنے کے بجائے امن کے میدان میں وہ زیادہ مفید طور پر اپنی کوششوں کا استعمال کریں۔ عجیب بات ہے کہ ۱۹ ویں صدی کے نصف آخر میں تقریباً ایک ساتھ دو مختلف تعلیمی تحریکیں اٹھیں۔ ایک طرف سرسید احمد خاں کی تحریک تھی جو عام طور پر علیگڑھ تحریک کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس تحریک کے ایک رکن مولانا الطاف حسین حالی (وفات ۱۹۱۴) نے اس کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا: بس اب وقت کا حکم ناطق یہی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے تعلیم ہی ہے دوسری طرف مولانا محمد قاسم نانوتوی اور ان کے ہم عصر علماء تھے۔ مولانا نانوتوی سرسید احمد خاں کے ہم سبق تھے، دونوں دتی کالج میں ایک ساتھ مولانا مملوک علی کے شاگرد رہ چکے تھے۔ دونوں کا نشانہ بیک وقت تعلیم تھا۔ فرق یہ ہے کہ سرسید احمد خاں نے انگریزی زبان اور سیکولر علوم کو اپنی تعلیمی تحریک کا مرکز بنایا۔ اس کے مقابلہ میں مولانا نانوتوی اور ان کے ہم عصر علماء کا نشانہ یہ تھا کہ ملت مسلمہ کے درمیان عربی زبان اور دینی علوم کی اشاعت کی جائے۔

سرسید احمد خاں کی تعلیمی تحریک گویا وقت کا تقاضا تھی اور علماء کی تحریک گویا دین کا تقاضا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر اٹھنے والی تحریکوں میں یہی دونوں تحریکیں ہیں جو مثبت معنوں میں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔ اس کا سبب بلاشبہ یہی تھا کہ ان دونوں تحریکوں کو پرامن

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page