علماء کا قائدانہ کردار
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۵
جدوجہد کے اصول پر چلایا گیا۔ علماء اسلام کی طرف سے شروع کی جانے والی مدارس دینیہ کی تحریک وقت کی ایک ضرورت تھی۔ وہ اپنے اندر بھرپور امکانات رکھتی تھی۔ چنانچہ وہ شروع ہونے کے بعد پھیلتی رہی، یہاں تک، کہ اب وہ اس تو سیعی مرحلہ تک پہنچ چکی ہے کہ ہر جگہ اس کے مظاہر دیکھے جاسکتے ہیں۔
علماء کا قائدانہ کردار
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کے مخاطب اول ہمیشہ ملاء قوم (الاعراف ۸۸) ہوتے تھے۔ یعنی وقت کے سردار۔ وقت کے سرداروں کو اپنا مخاطب بنانے کے لئے پہلی اور لازمی شرط یہ ہے کہ داعی اور مدعو کی زبان ایک ہو۔ اگر داعی اور مدعو کے درمیان لسانی بعد (language gap) ہو تو ایسے مخاطب کا وجود میں آنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے جتنے پیغمبر بھیجے سب لسان قوم (ابراہیم ۴) میں بھیجے، یعنی پیغمبروں کی زبان بھی وہی تھی جو قوم کے اعلیٰ افراد کی زبان تھی۔ علماء پیغمبروں کے وارث ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام کے ظہور کے بعد علماء تقریباً ایک ہزار سال تک یہ کام بخوبی طور پر انجام دیتے رہے۔ اس کا ایک بنیادی سبب یہ تھا کہ پچھلے زمانوں میں علماء کی زبان بھی وہی ہوتی تھی جو وقت کے سربرآوردہ طبقہ کی ہوتی تھی۔ دمشق اور بغداد اور قاہرہ اور قرطبہ وغیرہ میں جو نظام اقتدار قائم ہوا ان میں ہمیشہ علماء اپنا قائدانہ رول ادا کرتے رہے۔ اس کا بنیادی سبب بلاشبہ یہی تھا کہ اس زمانہ میں سربرآوردہ طبقہ کی زبان عربی تھی اور علماء اسلام کی زبان بھی عربی تھی۔ اس طرح دونوں طبقوں کے درمیان کوئی لسانی بعد نہیں پایا جاتا تھا۔
برطانوی اقتدار سے پہلے کے ہندوستان میں بھی یہ صورت حال باقی رہی۔ اس زمانہ کے مسلم ارباب اقتدار عام طور پر فارسی زبان بولتے یا سمجھتے تھے، اور طلباء اسلام کی زبان بھی اس زمانہ میں فارسی تھی۔ اس بنا پر علماء کے لئے ممکن ہو گیا کہ وہ وقت کے سربر آوردہ طبقہ کو براہ راست مخاطب کر سکیں اور اپنے قائدانہ رول کو کامیابی کے ساتھ ادا کرتے رہیں۔ مثال کے طور پر شیخ احمد سرہندی نے اپنے وقت کے امراء حکومت کو مخاطب کرنا چاہا تو نہیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ کیوں کہ دونوں کی زبان یکساں طور پر فارسی تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues