علم کا چشمہ رواں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۱
میں ساری اہمیت ملازمت رخی تعلیم (job oriented education) کی ہو گئی۔ تعلیم کو ملازمت (job) سے مربوط کر دیا گیا۔ اب سرٹیفکیٹ دینے والے اسکول اور کالج کا رواج بڑھنے لگا یہاں تک کہ اب یہ حال ہے کہ سیکولر تعلیم کے دائرہ میں انفرادی تلمذ کا سلسلہ تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ کیوں کہ مطلوب ڈگری منظور شدہ تعلیمی اداروں کے ذریعہ ملتی ہے نہ کہ انفرادی علمی صحبتوں کے ذریعہ۔ اس تبدیلی کا فطری اثر وقت کے دینی نظام تعلیم پر بھی پڑا۔
یہ تعلیمی سلسلہ جس کو میں نے علم کے چشمہ رواں کے دودھارے قرار دیا ہے وہ میرے لئے صرف ایک تاریخی خبر کی چیز نہیں بلکہ وہ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ اللہ کے فضل سے مجھے یہ موقع ملا کہ میں علم کے ان دونوں دھاروں سے کسب فیض کروں اور بھر پور طور پر ان سے سیراب ہوں۔ یہاں میں اس سلسلہ میں اپنے ان بعض تجربات کا ذکر کروں گا جن میں عمومی سبق موجود ہے۔ میں غالباً ۱۹۳۰ء میں اپنے گاؤں کے مدرسہ میں داخل کیا گیا۔ یہاں میں نے الف ب سے اپنی تعلیم شروع کی۔ گاؤں کے اس مدرسہ میں میرے استاد مولانا فیض الرحمن اصلاحی مرحوم تھے جو مدرسہ الاصلاح کے بانی مولانا محمد شفیع صاحب مرحوم کے فرزند تھے۔ مولانا فیض الرحمن اصلاحی جو ایک ذی استعداد عالم تھے، وہ نہ صرف میرے مدرسی استاد تھے بلکہ وہ میرے خصوصی معلم بھی تھے۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ گاؤں کے اس مدرسہ میں شاید میں پہلا طالب علم تھا جس نے وہاں ابتدائی فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی۔ جب کہ دوسرے طلباء زیادہ تر اردواور ناظره قرآن تک پڑھائی پر اکتفا کرتے تھے۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے اپنے زمانہ تشکیل (formative period) میں مولانا فیض الرحمن اصلاحی جیسا مخلص عالم ملا جس نے ابتدائی عمر ہی میں میرے اندر تحصیل علم کا شوق پیدا کر دیا جو پھر کبھی ختم نہ ہو سکا۔ مدرسہ کی رسمی تعلیم کے علاوہ میرا گھر بھی میرے لئے مستقل طور پر ایک غیر رسمی درس گاہ بنا رہا۔ میرے والد فرید الدین خاں مرحوم کے انتقال (۱۹۲۹ء) کے بعد میرے عم زاد برادر بزرگ مولانا اقبال احمد خاں سہیل ایڈوکیٹ، ایم اے، ایل ایل بی گویا میرے سرپرست تھے۔ وہ نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ وہ گہری علمی دستگاه رکھتے تھے۔ انہوں نے وقت کے اساتذہ سے فارسی اور عربی کی کتابیں سبقا سبقا پڑھی تھیں، مثلاً مولانا محمد شفیع صاحب (بانی مدرسہ الاصلاح)، مولانا شبلی نعمانی، مولانا حمید الدین فراہی وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues