Al-Risala · September 2000 · page 33

علم کا چشمہ رواں

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۳

رامپور کے زمانہ قیام میں مولانا صدر الدین اصلاحی (وفات ۱۹۹۸ء) سے بھی مجھے مسلسل علمی استفادہ کا موقع ملا۔ ۱۹۶۳ء میں میں مجلس تحقیقات و نشریات اسلام (لکھنؤ) سے وابستہ ہوا اور دار العلوم ندوۃ العلماء میں اقامت اختیار کی۔ اس سلسلہ میں کئی سال تک میرا قیام دار العلوم ندوۃ العلماء کے کیمپیس میں رہا۔ اس قیام کے زمانہ میں مسلسل میں وہاں کے سینئر اساتذہ سے استفادہ کرتا رہا۔ مثلاً مولانا محمد اسحاق سندیلوی، مولانا محمد اویس نگرامی، مولانا عبد الحفیظ بلیاوی، مولانا محمد تقی امینی وغیرہ۔ اس فہرست میں بلا شبہ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کا نام بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ لکھنؤ کے زمانہ قیام میں مجھے مسلسل طور پر مولانا عبد الباری ندوی وفات (۱۹۷۶ء) سے علمی استفادہ کا موقع ملتا رہا جو ندوہ سے قریب ہی لکھنؤ میں رہتے تھے۔ میں نے ۱۹۶۶ء کے آخر میں ان سے بیعت بھی کر لی۔ وہ مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ مجاز تھے۔ میں دہلی ۱۹۶۷ء میں آیا۔ اس کے بعد پھر دہلی ہی میں مستقل طور پر مقیم ہو گیا۔ یہاں بھی میرا تعلق مسلسل طور پر دہلی کے مدارس اور دہلی کے علماء سے جاری رہا۔ مثلاً مولانا مفتی عتیق الرحمن عثمانی، مولانا محمد میاں سابق ناظم جمعیۃ علماء ہند، مولانا قاضی سجاد حسین، صدر مدرس مدرسہ عالیہ فتح پوری، مولانا عبد الحلیم صدیقی، مولانا عبد الخالق نقوی، وغیرہ۔

دہلی میں اپنی آمد ۱۹۶۷ء کے بعد کثرت سے میں علی گڑھ کا سفر کرتا رہا۔ وہاں مولانا محمد تقی امینی (ناظم دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) اور مولانا سعید احمد اکبر آبادی وغیرہ سے علمی استفادہ کا سلسلہ جاری رہا۔ اس درمیان ایک بار کئی مہینہ تک مستقل طور پر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی جامع مسجد میں قیام کیا۔ اوپر جو مثالیں دی گئی ہیں وہ براہ راست طور پر تحریک مدارس کے ثمرات کا نتیجہ تھیں۔ یہ در اصل تحریک مدارس ہی کا کارنامہ ہے کہ ہر بستی اور ہر شہر میں ایسے تعلیمی ادارے قائم ہو گئے جہاں میں اور میرے جیسے دوسرے بہت سے لوگ داخلہ لے کر باقاعدہ طور پر دینی تعلیم حاصل کر سکیں۔ اسی طرح تقریباً ہر جگہ ایسے علماء وجود میں آگئے جو علمی تشنگی رکھنے والے کسی شخص کے لئے حصول فیض کا ذریعہ بن سکیں۔ اپنے آبائی گاؤں سے لے کر دہلی کے زمانہ قیام تک میرے تقریباً ۸۰ سالہ سفر حیات میں ہر جگہ مجھ کو ایسے تعلیمی ادارے ملے اور ہر جگہ ایسی علمی شخصیتیں موجود تھیں جن سے میں استفادہ کر کے اپنے دینی علم کو ترقی دیتا رہا۔ اور یہ سب کچھ بلاشبہ تحریک مدارس کی وجہ سے ممکن ہوا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page