سلائی ہاؤس
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۸
اس لئے کیا ہے تا کہ مدرسہ کے تحت جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں وہ پڑھنے والوں کو زیادہ حقیقی اور واقعی (factual) نظر آئے۔ یہ دراصل شخصی تجربہ کے حوالہ سے ایک عمومی حقیقت کا اظہار ہے۔ ان انفرادی واقعات کی تعمیم (generalisation) کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے کہ مدارس کے ماحول میں لوگوں کو کس قسم کی روحانی اور انسانی تربیت دی جاتی ہے۔
سلائی ہاؤس
دینی مدارس کا ایک اور عظیم فائدہ وہ ہے جس کو ایک لفظ میں سلائی ہاؤس کہا جا سکتا ہے۔ سلائی ہاؤس سے کیا مراد ہے اس کو میں ایک مثال سے واضح کروں گا۔ آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں بہت بڑے پیمانہ پر اسکول اور کالج اور یونیورسٹی کی صورت میں ایک عظیم تعلیمی ڈھانچہ قائم ہے۔ اس تعلیمی نظام کو ہمارے ملک کی حکومت بہت بڑی مالی مدد دے کر چلا رہی ہے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ یہ سیکولر تعلیمی ادارے ملک کے لئے ایک عظیم سلائی ہاؤس کا کام کر رہے ہیں۔ ملک کو مسلسل ایسے افراد کی ضرورت ہے جو اس کی اقتصادی اور قومی مشین کو چلا سکیں یہ ادارے یہی کام انجام دے رہے ہیں۔ ملک کو اپنے مختلف شعبوں کے لئے مسلسل قابل اعتماد کارکن درکار ہیں—— ٹیچر، کلرک، افسر، منیجر، ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، سپر وائزر، ایڈیٹر، پائلٹ، سکریٹری، ایڈمنسٹریٹر، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سارے افراد انہی سیکولر تعلیمی اداروں نے پیدا ہو رہے ہیں جن کو اسکول، کالج اور یونیورسٹی کہا جاتا ہے۔ یہی معاملہ وسیع مسلم ملت کا بھی ہے۔ اس ملک میں بسنے والی تقریباً میں کروڑ مسلم ملت کو مسلسل ایسے افراد درکار ہیں جو اس کی مختلف دینی وعملی ضرورتوں کو پورا کر سکیں۔ ان سارے افراد کی فراہمی کے لئے مدارس دینیہ گویا ایک مستقل "سلائی ہاؤس" کا کام کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں اس وقت تقریباً پانچ لاکھ مسجدیں ہیں ان مسجدوں کو امام انہی دینی مدارس سے ملتے ہیں۔ بیشمار تعلیمی اداروں کو یہیں سے مدرسین سپلائی ہو رہے ہیں۔ اسی طرح ملی اداروں کے لئے ناظم، تصنیف و تالیف کے شعبوں کے لئے مصنف، ملی صحافت کے لئے ایڈیٹر، انہی مدارس سے سپلائی ہوتے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں میں بہت سی جماعتیں قائم ہیں۔ ان تمام جماعتوں کو بھی اکثر افراد اسی سلائی ہاؤس سے فراہم ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر تبلیغی جماعت براہ راست طور پر مدارس کی پیداوار ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues