Al-Risala · September 2000 · page 39

سلائی ہاؤس

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۹

یہ مدارس میں تیار ہونے والے علماء ہی تھے جنہوں نے اس جماعت کو شروع کیا اور پھر اس کو موجودہ عالمی وسعت تک پہنچایا۔

اس سلسلہ میں ایک نہایت اہم سبق آموز بات یہ ہے کہ منفی اقدام ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتا ہے۔ جب کہ مثبت اقدام نہ صرف اپنے اصل نشانہ کو پورا کرتا ہے بلکہ اس کے ذریعہ بہت سے مزید فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں جس کا اس کے ابتدائی رہنماؤں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانہ میں ایک نئی چیز وجود میں آئی جس کو کمپیوٹر کہا جاتا ہے۔ اس کے لئے ہر جگہ اردو آپریٹر اور عربی آپریٹر کی ضرورت تھی۔

کمپیوٹر کے اس نئے کام کے لئے بھی افراد کار زیادہ تر مدارس دینیہ کے سپلائی ہاؤس ہی سے فراہم ہوئے۔ موجودہ زمانہ کی سیکولرویونیورسٹیوں میں اسلامک اسٹڈیز اور مسلم تاریخ کے مطالعہ کے نام پر ایسے شعبے کھلے جن میں داخل ہو کر مسلمان یونی ورسٹی کی سطح پر اسلام کی علمی نمائندگی کر سکیں۔ ان شعبوں کے لئے افراد بھی انہی مدارس دینیہ سے حاصل ہوئے۔

اسی طرح سفارت خانوں اور ریڈیو اور امور خارجہ سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبوں نیز ثقافتی اداروں اور بر آمدی تجارت وغیرہ کے لئے اردو داں اور عربی داں افراد کی ضرورت پیش آئی۔ یہ ضرورت بھی زیادہ تر مدارس دینیہ کے سپلائی ہاؤس سے پوری ہوئی، وغیرہ۔

موجودہ زمانہ میں صنعتی انفجار (industrial explosion) کے بعد لوگوں کے لئے عام مواقع کھلے کہ وہ دنیا کے مختلف ملکوں میں بڑی تعداد میں جاسکیں۔ ان جانے والوں میں ایک قابلِ لحاظ تعدادان لوگوں کی بھی تھی جو مدارس دینیہ میں تعلیم پائے ہوئے تھے۔ ان لوگوں کا بیرون ملکوں میں جاکر قیام کرنا ایک مزید فائدے کا سبب بنا۔ ان لوگوں کے بیرونی ملکوں میں آباد ہونے ہی کا یہ فائدہ تھا کہ بعد کو جب اردو داں علماء نے اپنے دینی اسفار کے تحت ان ملکوں کا دورہ کیا تو یہ لوگ پیشگی طور پر ان علماء کے لئے وہاں مددگار اور رابطہ کار کی حیثیت سے موجود تھے۔

اس طرح مدارس دینیہ کی صورت میں جو سپلائی ہاؤس قائم ہوا، اس کا دائرہ کسی مخصوص حد تک محدود نہ رہا۔ اس سپلائی ہاؤس سے ملک کے اندر کی دینی ضرورتیں بھی پوری ہوئیں اور ملک کے باہر کی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page