سلائی ہاؤس
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۵
تحریک تھی۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدارس دینیہ کی تحریک نہ صرف یہ کہ باقی رہی بلکہ وہ خود اپنی داخلی طاقت سے روز افزوں تیزی کے ساتھ بڑھنے لگی یہاں تک کہ وہ بڑھتے بڑھتے پورے برصغیر ہند میں پھیل گئی۔ مسجد گویا پیشگی طور پر مدرسہ کے لئے نئی بنائی بنیاد (base) تھی۔ چنانچہ تقریباً ہر مسجد میں چھوٹا یا بڑا مدرسہ قائم ہو گیا۔ جہاں مسجد ناکانی معلوم ہوئی وہاں مسجد کے باہر مستقل عمارت کی صورت میں مدارس قائم ہونے لگے۔ یہاں تک کہ پورے برصغیر ہند میں مدارس کا جال بچھ گیا۔ جن کی تعداد بلا مبالغہ لاکھوں تک پہنچتی ہے۔
یہ مدارس اصلاحی تعلیم کے لئے قائم کئے گئے تھے مگر قانون فطرت کے تحت وہ ایک ایسے انفراسٹرکچر کی صورت اختیار کر گئے جو اس ملک میں ہر دینی اور ملی مہم کے لئے بنیاد کا کام دے سکیں۔ چنانچہ بیسویں صدی میں جتنی بھی دینی یا ملی تحریکیں اس خطۂ ارض میں اٹھائی گئیں، ان سب کے لئے بنیادی زمین یہی ادارے بنے جن کو مدارس دینیہ کہا جاتا ہے۔
اس مدت میں جب بھی کوئی دینی اور ملی تحریک اٹھائی گئی تو انہی مدارس سے اس کو تیار ذہن (prepared mind) اور معاون ملے۔ انہی مدارس نے ہر تحریک کے رہنماؤں کا استقبال کیا۔ انہی مدارس نے پورے ملک میں اس تحریک کے حق میں موافق فضا تیار کی۔ ملی تحریکوں کے رہنما جب ملک کا دورہ کرتے ہیں تو یہی مدارس ان کے لئے مقامی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ تعلیمی ادارے ہر جگہ، ان کے لئے قیام گاہ سے لے کر جلسہ گاہ تک ہر ضرورت کی فراہمی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اگر مدارس دینیہ کا یہ جال نہ ہوتا تو موجودہ زمانہ میں اٹھنے والی کسی ملی تحریک کے لئے یہ ممکن نہ ہوتا کہ وہ اس پھیلاؤ اور وسعت کو حاصل کرے جو کہ عملاً اس نے حاصل کیا۔ کسی تحریک کی صحت کو جانچنے کا ایک معیار یہ ہے کہ جب وہ شروع ہو تو نہ صرف اپنا بر اور است نشانہ پورا کرے بلکہ اسی کے ساتھ وہ دوسرے بہت سے مثبت اور مفید نتائج پیدا کرنے کا سبب بن جائے۔
باغبان جب ایک درخت لگائے تو اس کا برا اور راست نشانہ اس سے پھل لینا ہوتا ہے مگر جب درخت بڑھ کر تیار ہوتا ہے تو پھل کے علاوہ لوگوں کو اس سے دوسرے بہت سے فائدے بھی ملنے لگتے ہیں۔ مثلاً سایہ، ہریالی، لکڑی، پھول، وغیرہ۔ اسی طرح جب انسانی معاشرہ میں کوئی صالح تحریک
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues