Al-Risala · September 2000 · page 46

اچھے شہری

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۶

چلائی جائے تو اس سے بہت سے ضمنی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ یہی معاملہ مدارس دینیہ کا ہے۔ یہ مدارس اصلا علم دین کو فروغ دینے کے لئے قائم کئے گئے تھے مگر جب وہ قائم ہو گئے تو وہ بہت سے دوسرے فوائد کا ذریعہ بھی بن گئے۔ انہی میں سے ایک خاص فائدہ یہ تھا کہ سارے ملک میں پھیلے ہوئے یہ مدرسے ملی تحریکوں کے لئے انفرااسٹرکچر کام دینے لگے۔

عربی کا ایک مقولہ ہے کہ تعرف الاشیاء باضدادھا (چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں) اس اصول کے مطابق، تھوڑی دیر کے لئے ملک سے مدارس دینیہ کے وجود کو حذف کر دیجئے۔ اس کے بعد یہ سوچئے کہ ملک میں اگر کوئی ملی تحریک چلائی جائے تو اس کا انجام کیا ہوگا۔ وہ انجام یہ ہوگا کہ شروع ہوتے ہی تحریک محسوس کرے گی کہ ملک میں قدم رکھنے کے لئے اس کے پاس کوئی زمین یا معاون ڈھانچہ موجود نہیں۔ کسی صحت مند تحریک کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ جب شروع ہو تو وہ لوگوں کو ایک ہی فائدہ نہ دے بلکہ لوگوں کو اس سے متنوع قسم کے فائدے حاصل ہوں۔ وہ نہ صرف یہ کہ کوئی نیا مسئلہ پیدا نہ کرے بلکہ وہ ہر متوقع اور غیر متوقع پہلو سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتی رہے۔ یہی معاملہ مدارس دینیہ کی تحریک کا تھا۔ وہ پورے معنوں میں ایک صحت مند تحریک تھی۔ اس لئے وہ ہر اعتبار سے مفید بنتی رہی۔ اس کی افادیت کی لمبی فہرست میں ایک چیز وہ بھی ہے جس کو انفرااسٹرکچر کہا جاتا ہے۔

مدارس دینیہ کی تحریک کے درست ہونے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ اس سے ملت کے اندر صحیح مزاج پیدا ہوا، وہ صحیح زاویہ نظر پیدا ہوا جس سے لوگ چیزوں کو درست طور پر دیکھ سکیں۔ ملت منفی نقطہ نظر سے نفی کر مثبت نقطہ نظر کی حامل بن گئی۔ ملت کے افراد موانع سے ٹکرانے کے بجائے مواقع کو استعمال کرنے لگے، وغیرہ۔

اچھے شہری

مدارس دینیہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ان کے ذریعہ ملک کو اچھے شہری فراہم ہو رہے ہیں۔ اچھے شہری، یعنی ایسے لوگ جو اخلاقی اصولوں اور انسانی قدروں کے مطابق جینے والے ہوں۔ ایسے افراد کی ضرورت ہر سماج کو ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اچھے شہری کے بغیر کوئی سماج اچھا سماج نہیں بن سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page