Al-Risala · September 2000 · page 52

دینی مدارس کا امتیاز

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۵۲

وہ اس سے آگے نہ بڑھ سکا۔ چنانچہ نظریہ ارتقاء کے محقق علماء خود یہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ نظریہ اب بھی صرف ایک کام چلاؤ نظریہ (workable theory) ہے نہ کہ کوئی ثابت شدہ علمی حقیقت۔ اس کے برعکس دینی درس گاہ میں تربیت پائے ہوئے انسان کا ذہن اول دن سے بالکل صاف ہوتا ہے۔ قرآن کی بنیاد پر، وہ اول دن سے اس یقین کا حامل ہوتا ہے کہ انسانی زندگی کا آغاز خدائی تخلیق کے ذریعہ ہوا نہ کہ محض بے شعور مادی عوامل کے ارتقاء سے۔ اس طرح دینی درسگاہ کا ایک انسان حیاتیات کے معاملہ میں اس نقطۂ آغاز کو پہلے ہی دن پا لیتا ہے جس کو غیر دینی درس گاہ میں تربیت پائے ہوئے لوگ سو سال سے زیادہ مدت تک مہنگی قسم کی علمی سرگرمیوں کے باوجود پانے میں ناکام رہے۔ ۵۔ غیر دینی درس گاہ میں تعلیم پایا ہو انسان جس فلسفہ حیات کو لے کر وہاں سے نکلتا ہے اس کے عین فطری نتیجہ کے مطابق اس کا تصور حیات بالکل ادھورا ہوتا ہے۔ وہ آغاز حیات کو جانتا ہے مگر وہ انجام حیات کو نہیں جانتا۔ اس کو یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں اپنی زندگی کی سرگرمیوں کو کہاں سے شروع کرے مگر اس کو یہ علم نہیں ہوتا کہ اس کی آخری منزل کیا ہے اور زندگی کے انجام کے اعتبار سے اس کو کس قسم کی تیاری کرنا چاہئے۔ وہ بظاہر اپنی زندگی کا آغاز اجالے میں کرتا ہے، صرف اس لئے کہ آخری عمر کو پہنچ کر اس کی زندگی کا معلوم اندھیروں میں بھٹک کر رہ جائے۔

دینی مدرسہ میں تعلیم و تربیت پائے ہوئے انسان کا معاملہ اس سے مکمل طور پر مختلف ہوتا ہے۔ یہاں کا تعلیم یافتہ انسان اپنے قرآنی پس منظر کی بنیاد پر پورے شعور کے ساتھ یہ جانتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی کا سفر کہاں سے شروع کرنا ہے اور اس کی آخری منزل کیا ہے۔ ایسا انسان اس واضح یقین پر کھڑا ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی حیثیت راستہ کی ہے، اور اس کے بعد آنے والی آخرت کی دنیا کی حیثیت منزل کی۔ ۶۔ غیر دینی درسگاہوں میں جو فلسفہ حیات رائج ہے، اس کے مطابق انسان ایک متلاشیٔ مسرت حیوان (pleasure-seeking animal) ہے۔ اس فلسفہ کا فطری نتیجہ یہ ہے کہ انسان لذت اور مسرت کے حصول کو اپنی زندگی کا واحد مقصد بنالے۔ چنانچہ آج غیر دینی درسگاہوں کے تعلیم پائے ہوئے تمام لوگ اسی واحد مقصد کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ غیر دینی درسگاہوں میں تربیت پائے ہوئے لوگوں کا حال ہر جگہ یہی ہے، خواہ وہ ہندوستان کے لوگ ہوں یا بیرون ہندوستان کے لوگ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page