مدرسہ کلچر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۵۷
اس جاہلی کلام میں حکمت کی باتیں کثرت سے موجود ہیں۔ بعد کے مطالعہ سے میں نے یہ جانا کہ اس کا سبب یہ تھا کہ جاہلی دور کے عربوں میں انسانی صفات (human qualities) نہایت اعلیٰ درجہ میں موجود تھیں۔ وہ نہایت زندہ لوگ تھے۔ اس کا اظہار ان کے کلام میں ہوتا تھا۔ مدرسہ کی زندگی میں عرب جاہلیت کے جو اشعار میں نے پڑھے اور ان میں سے ایک یہ تھا: جب آدمی کی آبرو قابلِ ملامت کردار سے گندی نہ ہوئی ہو تو وہ جو چادر بھی اوڑھے وہ اس کے لئے خوبصورت ہوگی: اذا المرء لم يدنس من اللؤم عرضه فكل رداء يرتديه جميل میرا مزاج بچپن سے یہ تھا کہ میں تکلفات کے مقابلہ میں سادگی اور ظاہر داری کے مقابلہ میں حقیقت بینی کو پسند کرتا تھا۔ اس شعر نے غالباً پہلی بار میرے غیر شعوری مزاج کو شعور کا درجہ دیا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے ایسا ہوا کہ ظواہر کی اہمیت میرے ذہن سے نکل گئی۔ میں ہمیشہ یہ دیکھنے لگا کہ کوئی چیز اصل حقیقت کے اعتبار سے کیا ہے۔ ظاہر دارانہ انداز مجھے یکسر بے معنی نظر آنے لگا۔ ۔ میری طالب علمی کے زمانہ میں مدرسۃ الاصلاح کے ایک استاد مولانا محمد احمد لہراوی تھے ۔ انہوں نے مجھ کو جو کتابیں پڑھائیں ان میں سے ایک موطا امام مالک تھی۔ حدیث کی اس کتاب کو پڑھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث اس طرح میرے ذہن کا جزء بن گئی کہ وہ پھر کبھی مجھ سے جدا نہ ہوئی۔ وہ یہ ہے: عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف، أن رجلاً أتى الى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله علمني كلمات أعيش بهن ولا تكثر علیّ فانسی، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تغضب" (كتاب الجامع، باب ماجاء فى الغضب) ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، مجھ کو ایسے کلمات بتائیے جن کے ساتھ میں جیوں۔ اور وہ کلمات زیادہ نہ ہوں کہ میں بھول جاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم غصہ نہ کرو۔ استاد محترم کے اندر اگرچہ کسی قدر غضب کا مزاج تھا تا ہم انہوں نے اس حدیث کی جو تشریح کی وہ میرے حافظہ میں نقش ہو گئی۔ اس سے مجھے طالب علمی ہی کے زمانہ میں زندگی کا یہ بنیادی اصول مل گیا کہ آدمی کو غصہ کے حالات میں بھی غصہ کے بغیر جینا ہے۔ مزید مطالعہ کے بعد میری سمجھ میں آیا
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues