غیر سیاسی ایمپائر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۷۰
اپنے مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے سیاسی ایمپائر سے بہت زیادہ با معنی اور مفید ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پچھلے تقریبا ڈیڑھ سو سالہ عمل کے نتیجہ میں اس خطہ ارض میں مسلمانوں کا ایک پر امن غیر سیاسی ایمپائر قائم ہو چکا ہے۔ ہر مسجد و مدرسہ اور ہر مسلم ادارہ اس ایمپائر کا ایک غیر متزلزل ستون ہے۔ آج مسلم قوم کو اس ملک میں جو بقا و استحکام حاصل ہے وہ انہیں لاکھوں اداروں (institutions) کی بدولت ہے۔ اگر یہ ادارے نہ ہوں تو کوئی شہنشاہ بھی ان کو یہ استحکام نہیں دے سکتا۔ یہ واقعہ دور جدید کی بنا پر ممکن ہوا۔ جدید تبدیلیوں نے سیاسی اقتدار کو ثانوی اہمیت کی چیز بنا دیا ہے اب طاقت کا حقیقی سر چشمہ ادارے (institutions) ہیں۔ اداروں کی سطح پر آج وہ سب کچھ مزید اضافے کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے جس کی امید پہلے محدود طور پر صرف سیاسی اقتدار سے کی جاتی تھی۔ سیاسی ایمپائر فوج کی طاقت کے زور پر بنتا ہے، اور غیر سیاسی ایمپائر اداروں (Institutions) اور تنظیمات (Organizations) کی طاقت سے قائم ہوتا ہے۔ سیاسی ایمپائر ایک شخص یا گروہ کی عظمت کا مینار کھڑا کرتا ہے۔ اور غیر سیاسی ایمپائر پوری ملت یا پوری قوم کا محل تعمیر کرتا ہے۔ سیاسی ایمپائر ایک کے اوپر دوسرے کی حکمرانی کی علامت ہوتا ہے، جب کہ غیر سیاسی ایمپائر مجموعی طور پر پوری انسانیت کی فلاح کا ضامن ہے۔ اللہ کی توفیق سے آج یہ غیر سیاسی ایمپائر اس خطہ ارض کے مسلمانوں کے لئے پورے معنوں میں قائم ہو چکا ہے۔ فالحمد لله على ذلك۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues