دور کی تبدیلی
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۷۱
دور کی تبدیلی
حدیث میں آیا ہے کہ: کانت بنوا اسرائیل تسوسہم الانبیاء (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، ۴۷/۶۵۴) یعنی بنی اسرائیل کے (دینی امور) کی نگہبانی ان کے انبیاء کرتے تھے۔ یہ صرف بنی اسرائیل کی بات نہیں، قدیم زمانہ میں یہی تمام امتوں کا معاملہ تھا۔ ہر امت کی نگرانی و نگہداشت کی ذمہ داری اس کے پیغمبر کے اوپر ہوتی تھی۔ چنانچہ قدیم زمانہ میں مسلسل پیغمبر آتے رہے ۔ (المؤمنون ۴۲) یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔ جن کے بعد نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔
اب سوال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی جو امت بڑی تعداد میں ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے، اس کی نگرانی اور نگہداشت کی ذمہ داری کس کے اوپر ہے۔ جواب یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری کسی سیاسی حاکم پر نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری امت کے علماء پر ہے۔ یہی بات حدیث میں اس طرح کہی گئی ہے کہ : ان العلماء ورثة الانبیاء ( صحیح البخاری، کتاب العلم) یعنی علماء نبیوں کے وارث ہیں۔ اس حقیقت کو ایک اور روایت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: علماء امتی كأنبياء بنی اسرائیل (یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں۔ یہ آخری حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہونے کے باوجود معنی کے اعتبار سے قوی ہے کیوں کہ دوسری روایتیں اس کے مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔ امت محمدی کے علماء، ختم نبوت کے بعد، مقام نبوت پر ہیں۔ اب امت کے علماء کو وہی کام انجام دنیا ہے جس کے لئے پہلے پیغمبر آتے تھے۔ یہ کام بنیادی طور پر دو ہیں ــــ امت کے امور و مسائل کی تدبیر قرآن وسنت کی رہنمائی کرنا، اور اسلام کے ابدی پیغام کو تمام قوموں تک پہنچانا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام تو بہت بڑا کام ہے۔ پیغمبر جب اس کام کو انجام دیتے تھے تو ان کے ساتھ اللہ کے فرشتوں کی غیبی مدد شامل رہتی تھی۔ جو پیغمبروں کے لئے ہر کامیابی کی یقینی ضمانت تھی۔ اب جب کہ اس قسم کی غیبی مدد آنے والی نہیں ہے تو علماء اس بھاری ذمہ داری کو کیوں کر انجام دیں گے۔ اس کا جواب پیشگی طور پر قرآن میں دے دیا گیا ہے۔ قرآن میں دین کی تکمیل و استحکام کا اعلان
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues