دور کی تبدیلی
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۷۲
کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: فلا تخشوهم واخشون (المائدہ ۳) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ دنیا میں جو انقلاب آیا، اس کے بعد دنیا کی تاریخ میں ایک نیا دور برپا ہو چکا ہے۔ آیت کی زبان میں کہا جاسکتا ہے کہ اب خشیت انسانی کا دور ختم ہو گیا، اور انسانی تاریخ تمدنی اعتبار سے خشیت خداوندی کے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ اب ایک ایسا دور انسانی تاریخ میں آچکا ہے جب کہ کسی کے لئے یہ ممکن ہی نہ رہا کہ وہ خدا کے دین کی راہ میں رکاوٹ بن سکے۔ اب سارے مواقع پورے طور پر اور عمومی طور پر کھول دیئے گئے ہیں، اب اگر کوئی رکاوٹ آئے گی تو وہ خود مسلمانوں کی داخلی کوتاہی کی بنا پر ہو گی نہ کہ خارجی زیادتیوں کی بنا پر۔
قدیم بادشاہی نظام کے دور میں توحید کا اعلان کرنے پر آدمی کے اوپر آرہا چلا دیا جاتا تھا (صحیح البخاری، کتاب المناقب) اب اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ قدیم آمرانہ سیاست کو ختم کرکے جمہوری سیاست کا دور دنیا میں رائج کر دیا۔ اس کے تحت ہر انسان کو مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ جس نظریہ کو چاہے اختیار کرے اور جس نظریہ کی چاہے تبلیغ کرے۔
قدیم زمانہ میں کوئی بڑا کام کرنے کے لئے عام لوگوں کے پاس وسائل نہیں ہوتے تھے۔ اس زمانہ میں اقتصادیات کا تمام تر انحصار زراعت پر تھا۔ اور زرعی زمینوں کا تنہا مالک صرف بادشاہ ہوتا تھا۔ اس لئے دینی کام کرنے کے لئے عام لوگوں کے پاس وسائل نہ ہوتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے صنعتی انفجار (industrial explosion) کی صورت میں معاشی وسائل کا سیلاب بہا دیا۔ آج حکومت کے تعاون کے بغیر ہر آدمی بڑے سے بڑا سرمایہ حاصل کر سکتا ہے اور انتہائی بڑے بڑے کام انجام دے سکتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ آج ہندوستان میں یونیورسٹیوں کی مانند بہت سی بڑی بڑی دینی درس گاہیں قائم ہیں جو تمام ترغیر سرکاری تعاون کی بنیاد پر چل رہی ہیں، جب کہ قدیم دور میں اس نوعیت کے غیر سرکاری اداروں کی مثال پانا سخت مشکل ہے۔
قدیم زمانہ میں دعوتی کام بہت محدود پیمانہ پر ہو سکتا تھا کیوں کہ اس زمانہ میں سفر کے لئے صرف حیوانات ہوتے تھے جو صرف قریب کی منزل تک انسان کو لے جاسکتے تھے۔ اس زمانہ میں پیغام رسانی کا کوئی بڑا وسیلہ نہ تھا۔ آج کمیونی کیشن کے انقلاب نے ساری صورت حال بدل دی ہے۔ آج آپ چند
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues