Al-Risala · September 2000 · page 73

دور کی تبدیلی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۷۳

کے کسی بھی حصہ میں پہنچا سکتے ہیں۔ پرنٹنگ پریس کے ذریعہ ایک کتاب کو کروڑوں کی تعداد میں چھاپ کر ہر گھر میں داخل کر سکتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

یہ جدید امکانات بھی آج بڑے پیمانہ پر دین کی اشاعت کے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ اس مہم میں زیادہ تر مدارس دینیہ کے لوگ ہی براہ راست یا بالواسطہ طور پر شریک ہیں۔ میں خود اپنے آپ کو بھی اسی قافلہ مدارس کا ایک فرد سمجھتا ہوں۔

مذکورہ قسم کی بے شمار تبدیلیاں جو دنیا میں آئی ہیں وہ زیادہ تر غیر مسلم قوموں کے ذریعہ آئی ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان قوموں سے اللہ تعالیٰ نے بالواسطہ انداز میں اپنے دین کی خدمت کا کام لیا ہے۔ غالباً یہی وہ حقیقت ہے جس کا اظہار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر اس حدیث میں کیا تھا: ان اللہ يؤيد الدين بالرجل الفاجر (البخاری کتاب الجہاد، کتاب المغازی، باب غزوہ خیبر) یعنی اللہ دین اسلام کی مدد فاجر شخص کے ذریعہ بھی کرے گا۔

امکانات و مواقع کا یہ سیلاب بلاشبہ علماء اسلام کے لئے ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ علماء کے گروہ میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے اس منصوبہ الہیٰ کو سمجھا۔ اور جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے بقدرا مکان تجدید دین اور احیاء اسلام کا فریضہ ادا کرنے کی کوشش کی۔ میں اپنے آپ کو بھی انہی خادمانِ دین میں شمار کرتا ہوں۔ اللہ کی توفیق سے میں نے دور جدید کے تمام ذرائع کو دین کی اشاعت کے لئے استعمال کیا ہے— پریس، کانفرنس، ریڈیو، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، وغیرہ۔ میں مکمل طور پر دینی مدرسہ کی پیداوار ہوں، اس اعتبار سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میرا یہ پورا جدوجہد دینی مدارس کے تحت ظہور میں آنے والا کام قرار پاتا ہے۔ اس کا کریڈٹ سب سے پہلے مدارس دینیہ کو جاتا ہے اور اس کے بعد مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page