Al-Risala · March 2001 · page 8

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۸

پرسكارت کا بہار کی پاون دھرتی پراردک سواگت ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ ریلوے کی طرف سے کیا جانے والا یہ اعلان چھ بار دہرایا گیا۔

ریلوے اسٹیشن پر بہار کے مختلف علاقوں کے لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر ہم لوگ جناب ایم ٹی خان کی رہائش گاہ (عدالت گنج) پہنچے۔ یہاں تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ قیام رہا۔ تعلیم یافتہ لوگ کافی تعداد میں اکٹھا ہو گئے۔ ان سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ اس مجلس میں کئی تعلیم یافتہ خواتین بھی موجود تھیں۔ اس نسبت سے میں نے کہا کہ عورتوں کی تعلیم بے حد ضروری ہے۔ عورتوں کو تعلیم یافتہ بنائے بغیر مسلم معاشرہ ترقی یافتہ معاشرہ نہیں بن سکتا۔ تاہم تعلیم سے میری مراد وہ تعلیم نہیں ہے جو فیشن سکھائے، بلکہ وہ تعلیم ہے جو حقیقی معنوں میں باشعور بنائے۔

پٹنہ میں انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کی خاتون نمائندہ سنجیدہ بانو نے اپنے اخبار کے لئے تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ آپ بھی ایک عالم ہیں، مگر روایتی علماء اور آپ کے درمیان فرق ہے ایسا کیوں، میں نے کہا کہ میں کوئی ماڈرن عالم نہیں۔ میں بھی پورے معنوں میں ایک روایتی عالم ہوں۔ جہاں تک اسلام اور قرآن وحدیث کا تعلق ہے میرے اور ان کے درمیان عقیدہ وعمل کا کوئی اختلاف نہیں۔ اس اعتبار سے دونوں کا دین مکمل طور پر ایک ہے۔ میرے اور ان کے درمیان جو فرق ہے وہ نظریہ کا نہیں بلکہ طریق کار کا ہے۔

میرا معاملہ یہ ہے کہ میں نے مدرسہ میں عربی اور دینی تعلیم کی تکمیل کے بعد ذاتی محنت سے انگریزی پڑھی اور جدید علوم کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اس سے میں نے سمجھا کہ اسلام کی ابدی صداقت کو جدید اسلوب میں پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ آج کے انسان کے لئے زیادہ قابل فہم ہو سکے۔ اس ایک بات کے سوا دونوں کے درمیان کوئی اور فرق نہیں۔

مشہور فلم اسٹار شیکھر سمن پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ ۱۸ اکتوبر ۲۰۰۰ کو آل انڈیا ریڈیو پر میں ان کا ایک انٹرویو سن رہا تھا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں ملک کے اندر اور ملک کے باہر ہر جگہ جاتا ہوں۔ مگر آج بھی مجھے پٹنہ ہی سب سے زیادہ پسند ہے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ کلاکار کو چاہئے کہ وہ ہر دن اپنے آپ کو ری انونٹ (re-invent) کرے ۔ آپ کا آج آپ کے کل سے اچھا ہونا چاہئے۔ ہر دن آپ کو پچھلے دن سے اچھا کام کرنا چاہئے۔ یہ بات ہر ایک کے لیے درست ہے۔ آدمی کے فطری امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ بے شمار استعمال کے بعد بھی وہ ختم نہ ہوں۔ ایک ایسی زندگی گزارنے کے لئے جس میں ہر دن وہ اپنے آپ کو از سر نو دریافت

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page