تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۹
کرے۔ اس کی واحد شرط یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو کم محسوس کرے۔ وہ کبھی اس احساس کا شکار نہ ہو کہ میں نے اپنے کام کو جیسا کرنا چاہئے تھا ویسا کر دیا۔ اس پہلو سے عدم قناعت (discontent) کسی آدمی کا سب سے بڑا سرمایه هے اور قناعت (content) اس کی سب سے بڑی بے مانگی۔
ایک مغربی مفکر کا قول ہے که علم میں ترقی کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز تواضع (modesty) ہے۔ تواضع کے بغیر کوئی شخص علم کے اعلیٰ مرتبے تک نہیں پہنچ سکتا۔ آدمی کے اندر اگر کبر کی نفسیات ہو تو اس کے اندر دوسروں سے سیکھنے کا مزاج نه هوگا۔ اس کی بے اعترافی اس میں رکاوٹ بن جائے گی که وه اپنے سوا کسی اور کو صاحب علم مانے اور اس سے استفادہ کر کے اپنے علم کو بڑھائے۔ اس کے برعکس جس آدمی کے اندر تواضع کی نفسیات ہو وہ ہر لمحہ اس کے لئے تیار رہے گا کہ جو چیز بھی کسی سے ملے اس کو وہ فورا شکریہ کے ساتھ قبول کر لے اور اس طرح اپنے علم کو مسلسل بڑھاتا رہے۔ تواضع کا مزاج کسی آدمی کے لئے علم کے دروازہ کو کھولتا ہے اور کبر کا مزاج اس کے لئے علم کے دروازہ کو بند کر دیتا ہے۔ پٹنہ میں یکم نومبر کی صبح کو جناب محمد محی الدین صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ پٹنہ یونیورسٹی میں پروفیسر اور وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے میری تحریروں کے بارے میں اپنے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کے خیالات سے پورا اتفاق ہے۔ ہندوستان میں اسی طرح کام کرنے کی ضرورت ہے، كنفرنٹیشن کی پالیسی اس ملک میں مفید نہیں ہو سکتی۔
میں نے کہا کہ میں كنفرنٹیشن کی پالیسی کو تباہ کن حد تک غلط سمجھتا ہوں، مگر اس پالیسی کی اہمیت صرف ہندوستان کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ قانون فطرت کے اعتبار سے ہے۔ آپ خواہ ہندوستان میں ہوں یا یورپ و امریکہ میں، ہر جگہ آپ کی کامیابی کا راز صرف یہ ہے کہ كنفرنٹیشن کی پالیسی سے بچ کر تعمیری انداز اختیار کریں۔ حتی که خالص مسلم ملکوں میں بھی كنفرنٹیشن کی پالیسی کے ساتھ آپ کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ٹائمس آف انڈیا کا پٹنہ ایڈیشن (یکم نومبر (۲۰۰۰) دیکھا اس میں صفحہ دس پر مختلف لوگوں کے اقوال درج تھے سب سے پہلا قول حضرت علی بن ابی طالب کا تھا۔ اس قول کو انگریزی زبان میں اس طرح نقل کیا گیا تھا:
It is right that the king should govern himself before governing his subjects. یعنی بادشاہ کو اپنی رعایا پر حکم چلانے سے پہلے خود اپنے آپ پر حکم چلانا چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں که صالح حکمران کی یہ بہترین تعریف ہے۔ عادل حکمران اور غیر عادل حکمراں کے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues