تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۱۰
در میان یہ فرق ہے کہ عادل حکمراں دوسروں کو جس چیز کا حکم دیتا ہے اس پر پہلے وہ خود عمل کر چکا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس غیر عادل حکمراں دوسروں کے نام تو بڑے بڑے حکم جاری کرتا ہے مگر خود اپنی ذات کو اس سے مستثنیٰ کر لیتا ہے۔
ایک اور قول برطانیہ کے مشہور قانون داں لارڈ ایکٹن کا تھا۔ اس کے الفاظ یہ تھے کہ اصل خطرہ یہ ہے کہ کوئی متعین طبقہ حکمرانی کے لئے غیر موزوں نہیں، بلکہ ہر طبقہ حکمرانی کے لئے غیر موزوں ہے: The danger is not that a particular class is unfit to govern. Every class is unfit to govern. میں سمجھتا ہوں کہ لارڈ ایکٹن کے اس قول کی تشریح خود انہی کے ایک اور قول سے ہوتی ہے انہوں نے کہا: اقتدار بگاڑتا ہے (power corrupts)- لوگ اکثر اس حکمراں طبقہ کو برا کہنے لگتے ہیں جو بالفعل حکومت کر رہا ہو۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی برائی اسی مخصوص طبقہ میں ہے۔ مگر ایسا نہیں۔ سیاسی برائی خود اقتدار کے عہدہ میں ہے، جو بھی سیاسی اقتدار کی کرسی پر بیٹھے گا وہ کم یا زیادہ بگاڑ کا شکار ہوگا۔ اس لئے قابل عمل بات یہ ہے کہ لوگ اس معاملہ میں زیادہ حساس نہ ہوں۔ اس لئے کہ ایک حکمراں کو ہٹا کر دوسرا جو حکمراں آپ لائیں گے، عین ممکن ہے کہ وہ اس سے بھی زیادہ بگڑا ہوا ہو۔
اس معاملہ کی ایک مثال بہار کے مشہور لیڈر جے پرکاش نارائن کی زندگی میں پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کانگریس کی حکومت میں کچھ خرابیاں دیکھیں۔ اس کے بعد انہوں نے یہ رائے قائم کرلی کہ ہندوستان کی تمام برائیوں کی جڑ کانگریس پارٹی کی حکومت ہے۔ اگر کانگریس کو سیاسی اقتدار سے ہٹا دیا جائے تو ملک میں سمپورن کرانتی (ٹوٹل ریولیوشن) آجائے گا۔ چنانچہ انہوں نے زبردست سیاسی اکھیڑ پچھاڑ کے بعد کانگریس کو مکمل طور پر اقتدار سے ہٹا دیا۔ مگر اس کے بعد دوسری حکومت جو جنتا پارٹی کے زیر اقتدار بنی وہ کانگریس سے بھی زیادہ نااہل ثابت ہوئی۔ خود جنتا پارٹی کے اندر اقتدار کی اتنی رسہ کشی ہوئی کہ مقرر مدت پوری کرنے سے پہلے ہی وہ ٹوٹ کر ختم ہو گئی۔ اس لیے سیاسی معاملات میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ حکمراں کے بگاڑ پر صبر و تحمل کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے ممکن دائرے میں اصلاح کی کوشش کی جائے۔
پٹنہ ایک تاریخی شہر ہے۔ یہاں کی قابل دید چیزوں میں سے ایک خدا بخش اُورینٹل پبلک لائبریری ہے۔ یہ اپنی خصوصیات کی بنا پر عالمی شہرت کی مالک ہے۔ اس لائبریری کے بانی خدا بخش خاں تھے۔ انہوں نے اپنے والد محمد بخش کی وصیت کے مطابق یہ لائبریری قائم کی تھی۔
یہ لائبریری ۲۹ اکتوبر ۱۸۹۱ کو قائم کی گئی۔ اس لائبریری کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر پارلیمنٹ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues