تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۱۳
پر هنگامه کھڑا کر دیا۔ اس زمانہ کے کئی مسلم لیڈر اسی واقعہ کے بعد مشہور ہوئے۔ اگر چہ ان کو اپنی یہ ذاتی شہرت اس قیمت پر ملی کہ انہوں نے مسلمانوں کے دل میں انگریزوں کے خلاف نفرت پیدا کر کے داعی اور مدعو کے رشتہ کو درہم برہم کر دیا۔
اس زمانہ میں کانپور کی مسجد کے اس واقعہ پر بہت سے مضامین اور اشعار لکھے گئے۔ مولانا شبلی نعمانی نے اس پر ایک پر جوش نظم لکھی تھی اس میں ڈرامائی انداز میں دکھایا گیا تھا کہ میں ایک جگہ پہنچا جہاں مسلمانوں کی خون آلود لاشیں پڑی ہوئی تھیں، اس کے بعد یہ شعر تھا:
پوچھا جو میں نے کون ہو تم، آئی یہ صدا ہم کشتگانِ معرکۂ کانپور ہیں گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو اس شعر کو کسی قدر تبدیلی کے ساتھ اس طرح کہنا زیادہ صحیح ہوگا: پوچھا جو میں نے کون ہو تم، آئی یہ صدا ہم کشتگانِ معرکۂ بے شعور ہیں برادرم محمد ثناء اللہ ندوی نے بتایا کہ وہ نہ صرف خود الرساله اور مطبوعات الرساله کو پڑھتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی پڑھاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اپنے تجربات کے دائرہ میں انہوں نے بتایا کہ ایک دن وہ اپنی دکان پر میری کتاب ”مذہب اور جدید چیلنج“ پڑھ رہے تھے۔ اس اثناء میں ایک مقامی عالم آگئے۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ کون سی کتاب پڑھ رہے ہیں۔ ثناء اللہ صاحب نے کہا کہ یہ مولانا وحید الدین خاں کی کتاب ”مذہب اور جدید چیلنج“ ہے۔ انہوں نے یہ سنتے ہی کہا کہ لاحول ولاقوت۔ یہ تم کس کی کتاب پڑھ رہے ہو۔ یہ تو مسلم دشمنوں کے ایجنٹ ہیں، وہ معمر قذافی کے آدمی ہیں۔ ثناء اللہ صاحب نے کہا کہ کیا آپ نے ان کی کتابیں پڑھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ ثناء اللہ صاحب نے ان سے کہا کہ پھر آپ نے بغیر جانے ہوئے کیسے رائے قائم کر لی۔ انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں وہ تو لیبیا کے معمر قذافی کے ایجنٹ ہیں جو ایک بدنام دشمنِ اسلام ہے۔
جناب ثناء اللہ ندوی کے پاس اس وقت راقم الحروف کی کتاب غیر ملکی اسفار حصہ اول تھی جس کو وہ پڑھ چکے تھے۔ اس کتاب میں لیبیا کا ایک سفر نامہ شامل ہے جس میں معمر قذافی کے بارے میں یہ الفاظ چھپے ہوئے ہیں:
مجھے کرنل قذافی کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کرنل قذافی کے ثوره (انقلاب) نے لیبیا کو نقصان زیادہ پہنچایا ہے اور فائدہ کم۔ اسلام کے بارے میں بھی اُن کی بہت سی تعبیرات احمقانہ ہیں“ (صفحه ۱۱)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues