Al-Risala · March 2001 · page 14

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۱۴

ثناء اللہ ندوی صاحب نے بتایا کہ اس اقتباس کو سننے کے بعد مذکورہ عالم اس قدر مبہوت ہوئے کہ وہ حیرانی کے ساتھ میری طرف دیکھنے لگے۔ ان کی خاموشی اس بات کی علامت تھی کہ وہ اس مطبوعہ اقتباس کو دیکھنے کے بعد سر تا سر لاجواب ہو گئے ہیں۔ مگر انہوں نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ میں اس معاملہ میں سخت غلطی پر تھا۔ بلکہ انہوں نے صرف یہ کیا کہ موضوع بدل کر دوسری بات شروع کردی۔

لوگوں کی یہ عام کمزوری ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے۔ خواہ اس پر کتنے ہی زیادہ دلائل دے دئے جائیں۔ ان میں سے کوئی شخص یہ کرتا ہے کہ دلائل کے مقابلہ میں بے بس ہو کر چپ ہو جاتا ہے اور کوئی شخص اس کے بعد بھی بے تکان بولتارہتاہے خواہ اس کو خود بھی اپنے بولے ہوئے الفاظ کا مطلب معلوم نہ ہو۔

راستہ میں ہم لوگ موتی ہاری سے گزرے۔ یہاں کچھ دیر کے لئے مدرسہ خیر العلوم میں قیام کیا۔ اس کے ناظم مولانا محمد عالم القاسمی ہیں۔ یہ مدرسہ ۱۹۷۲ میں قائم ہوا۔ یہاں ڈیڑھ سو طلبا کی تعلیم کا انتظام ہے۔ اساتذہ اور دوسرے کارکنوں کی تعداد سترہ ہے۔ یہ مدرسہ ایک پر سکون جگہ پر واقع ہے۔ اس طرح کے لاکھوں چھوٹے بڑے مدرسے پورے ملک میں خاموش کام کر رہے ہیں۔ وہ علم دین کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچارہے ہیں۔ انہی مدارس کا یہ کارنامہ ہے کہ ہندوستان میں آج علم دین زندہ ہے۔ مسلم ملکوں میں احیاء تعلیم کا یہ کام حکومتوں کے تعاون سے ہوتا ہے۔ ہندوستان میں یہ کام علماء کی قربانیوں کے ذریعہ انجام پارہا ہے۔ ہندوستان میں اتنی بڑی تعداد میں مدارس دینیہ کی موجودگی اس خدائی ضمانت کی ایک زندہ مثال ہے جس کو حفاظت دین کہا جاتا ہے۔ مدارس کے موضوع پر میں نے ایک مفصل مقالہ شائع کیا ہے۔ یہ مقالہ ماہنامہ الرسالہ کے شمارہ ستمبر ۲۰۰۰ میں تفصیل کے ساتھ چھپا ہے۔ میں نے ظہر کی نماز اسی مدرسہ کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد طلباء واساتذہ کے سامنے ایک مختصر خطاب کیا۔ اس خطاب میں میں نے کہا کہ یہ مدارس ایک عظیم خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہ ادارے اس تحفظ دین کا ذریعہ ہیں جس کا فیصلہ اللہ نے فرمایا ہے۔ اللہ کا یہ فیصلہ اسباب کے اعتبار سے زیادہ تر انہیں مدارس کے ذریعہ انجام پارہا ہے۔

سفر کے دوران اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ مشن کس طرح لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنارہا ہے مثلاً اس سفر میں ایک واقعہ پیش آیا۔ میرے اس سفر کا پروگرام طے کرنے کے بعد مولانا عبد الرحیم امدادی نے مختلف مقامات کے سفر کئے تاکہ پروگرام کا نظام بنا سکیں۔ اس سلسلہ میں وہ ڈھا کہ گئے۔ وہاں ان کو

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page