Al-Risala · March 2001 · page 15

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۱۵

جناب عطاءء اللہ ڈھاکوی سے ملنا تھا۔ ایک کپڑے کے تاجر سے انہوں نے عطا اللہ صاحب ڈھاکوی کاپتہ پوچھا۔ اس تاجر نے اپنے قیاس کے ذریعہ مولانا عبدالرحیم امدادی سے کہا "غالباً آپ مولانا وحید الدین کے پروگرام کے سلسلہ میں یہاں آئے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ ہاں، تاجر نے کہا کہ میں خود بھی مولانا کا شیدائی ہوں۔ اس کے بعد مذکورہ تاجر مولانا عبدالرحیم امدادی کو اپنی دکان میں لے گئے اور کہا کہ میں بھی آپ کے ساتھ اس پروگرام میں شریک ہوں۔

یہ تاجر محمد ثناء اللہ ندوی تھے۔ انہوں نے الرسالہ مشن کی کافی کتابیں پڑھی ہیں اور وہ پوری طرح اس مشن میں شامل ہو چکے ہیں۔ مگر اس سے پہلے ان کا تعارف اس حیثیت سے نہ مجھ سے تھا اور نہ کسی اور سے۔ یکم نومبر ۲۰۰۰ء سے پہلے میں محمد ثناء اللہ ندوی کا نام بھی نہیں جانتا تھا۔ مگر اس سفر کے دوران ان کا جو تعارف ہوا اس سے معلوم ہوا کہ وہ خود اپنی ذات میں دعوت کی ایک تاریخ لئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی دعوتی زندگی کے کئی ایسے واقعات بتائے جو میرے جیسے آدمی کے لئے بلاشبہ حیرت انگیز ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈھاکہ میں ایک نوجوان محمد نسیم احمد ہیں۔ میں ان کو تقریباً پانچ سال سے جانتا تھا لیکن مجھے یہ پتہ نہ تھا کہ وہ الرسالہ مشن سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

موجودہ پروگرام کے تحت عبدالرحیم امدادی صاحب ڈھاکہ آئے۔ وہ ان کی دکان پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اس در میان اتفاق سے محمد نسیم صاحب وہاں آگئے۔ انہوں نے نسیم صاحب کو پروگرام کی بابت بتلایا۔ وہ بہت خوش ہوئے اور پھر انہوں نے اپنے بارے میں یہ بات بتائی کہ وہ الرسالہ مشن کی ساری کتابیں پڑھ چکے ہیں۔

انہوں نے الرسالہ کے بہت سے شمارے دہلی سے منگو اکر تقسیم کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بہار کے اس پروگرام میں شروع سے اخیر تک شریک رہوں گا۔

ایک عجیب سبق آموز بات معلوم ہوئی کہ بہار کا موجودہ پروگرام اتفاق سے ایسے وقت میں بتاجب کہ یہاں ہندوؤں میں چھٹ تیوہار پڑ رہا تھا۔ یہ کپڑے کی تجارت کے لئے سیزن کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ محمد ثناء اللہ ندوی کے لئے ایک آزمائش کا لمحہ تھا۔ وہ دکان میں بیٹھ کر سیزن کا فائدہ اٹھائیں یا دکان کو بند کر کے ہمارے پروگراموں میں شرکت کریں۔ پروگرام میں شرکت کے لئے دکان کو بند کرنا ضروری تھا کیوں کہ ان کی غیر موجودگی میں دوسرا کوئی شخص نہ تھا جو دکان کو دیکھے۔

۳۱ اکتوبر ۲۰۰۰ کو وہ اپنی دکان پر تھے، شام ۳ بجے تک سترہ ہزار روپے کی بکری ہو چکی تھی۔ اور

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page