تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۱۶
خریداروں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ تین بجے انہوں نے فیصلہ کیا کہ بہرحال مجھے پروگرام میں شرکت کرنا ہے۔ چنانچہ انہوں نے گاہکوں کی بھیڑ چھوڑ دی اور دکان کو بند کر کے اللہ پر توکل کرتے ہوئے پٹنہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ یکم نومبر کو محمد ثناء اللہ ندوی نے اپنا یہ واقعہ بتایا تو میری آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے۔ میں نے کہا کہ خدا یا تو اس نوجوان کی اور ہم سب کی مدد فرما۔
بمبئی کے مسٹر نسیم علی خاں صاحب سے ملاقات ہوئی۔ (022-8210416 .Tel) انہوں نے بتایا کہ بمبئی میں بہار کے لوگ کثرت سے ہیں۔ اور ان میں سے بہت سے لوگ الرسالہ کے قاری ہیں۔ بمبئی کی بہار کمیونٹی کے کئی ممتاز لوگ الرسالہ مشن سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ اور الرسالہ کے قاری ہیں۔ مثلاً انجمن باشندگان بہار کے صدر مسٹر فاروق اور اس انجمن کے سکریٹری مسٹر فیروز احمد شیخ، وغیرہ۔ انہی میں سے بہار کے ایک ممتاز دانشور اور صحافی اور افسانہ نگار مسٹر محمود ایوبی ہیں۔ وہ آج کل بمبئی میں رہتے ہیں۔ (022-6395408 .Tel) اس سے پہلے وہ ہفتہ وار اردوبلٹز کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔ آج کل وہ آزاد صحافی کے طور پر مختلف اخباروں میں مضامین لکھتے ہیں۔ محمود ایوبی صاحب کے بارے میں جناب نسیم علی خاں صاحب نے بتایا کہ وہ الرسالہ مشن کی بہت قدر کرتے ہیں۔ نسیم صاحب نے کہا: ”محمود ایوبی صاحب الرسالہ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے اکثر کہا کرتے ہیں کہ ہم کو تو ہندوستان میں صرف ایک ہی مولانا نے متاثر کیا ہے اور وہ ہیں مولانا وحید الدین خاں۔ میں نے ان کے کہنے اور کرنے میں کہیں تضاد نہیں پایا۔ ان کا دوٹوک الفاظ میں بات کرنا اور مشکل سے مشکل مسئلہ کا حل آسان طور پر بیان کر دینا ان کا خاصہ ہے۔ ان کی تحریر اور ان کی رہنمائی حقیقت پسندی کا سبق دیتی ہے۔ “ سید نعیم اختر صاحب منشاء ٹولہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آج کل دنیا بھر کے علماء جہاد کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہر ملک کے مسلمانوں کو جہاد کے اوپر بھڑکائے ہوئے ہیں۔ صرف آپ ایک ایسے عالم ہیں جو جہاد اور ٹکڑاؤ کی بات نہیں کرتے۔ ایسا کیوں، کس طرح یہ سمجھا جائے کہ دونوں میں سے کون بر حق ہے۔ میں نے کہا کہ جہاد کو بطور ایک شرعی حکم کے میں بھی اسی طرح مانتا ہوں جس طرح دوسرے علماء مانتے ہیں۔ مگر شریعت کے ہر حکم کی کچھ شرطیں ہیں، اسی طرح جہاد کی بھی کچھ لازمی شرطیں ہیں۔ پہلی بات یہ کہ تمام علماء کی متفقہ رائے کے مطابق، جہاد سے پہلے دعوت ضروری ہے۔ دعوت کی پر امن جدد جہد کے بغیر مسلح جہاد چھیڑنا اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہمارا پہلا فریضہ یہ ہے کہ ہم دوسری قوموں تک اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ نہ یہ کہ ملک و مال کی شکایتوں کو لے کر ان سے لڑنا شروع کر دیں۔ شرائط کی تکمیل کے بغیر جو جہاد کیا جائے وہ شریعت کی نظر میں فساد ہو گا نہ کہ جہاد۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues