تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۱۷
دوسری بات یہ کہ اگر بالفرض وہ حالات پیدا ہو جائیں جب کہ جہاد کرنا مسلمانوں کے لئے ضروری ہو جاتا ہے تب بھی جہاد سے پہلے اعداد (تیاری) کا مرحلہ طے کرنا ضروری ہوگا۔ اعداد کے بغیر جہاد صرف ایک خود کشی کا فعل ہے، وہ ہرگز جہاد نہیں۔
اکثر پر جوش مسلمان اس معاملہ میں غزوہ بدر کا حوالہ دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ غزوہ بدر میں فریق ثانی کی نسبت سے کوئی تیاری نہیں تھی پھر بھی مسلمانوں نے ان سے جنگ کی اور کامیاب ہوئے۔ میرے نزدیک ایسا کہنا صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ کہنے والا مجرمانہ حد تک قرآن سے ناواقف ہے۔ قرآن سے واضح طور پر ثابت ہے کہ جب یہ اطلاع ملی کہ مکہ سے ایک ہزار مسلح فوج مدینہ کی طرف آرہی ہے تو مسلمان اپنی عدم تیاری کی بنا پر ان سے مڈبھیڑ کے لئے راضی نہ تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس یہ خوش خبری بھیجی کہ تم لوگ آگے بڑھو، میں تمہاری مدد کے لئے ایک ہزار فرشتے لگا تار بھیج رہا ہوں (الانفال 9) اللہ تعالیٰ کی اس واضح یقین دہانی کے بعد مسلمان کمزوریا تیاری کے بغیر نہیں رہے، بلکہ وہ تمام طاقتوروں سے زیادہ طاقت ور ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی، جب کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان بدر کا حوالہ دے کر کم از کم ڈیڑھ سو سال سے بار بار لڑ رہے ہیں۔ اور ہر موقع پر یکطرفہ شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔ اگر وہ ”بدر“ کو دہرارہے ہیں تو بدر کا نتیجہ ان کے حصہ میں کیوں نہیں آیا۔ بہار کا یہ سفر ایک قافلہ کی صورت میں تھا۔ ایک ہزار کلومیٹر کے پورے سفر میں یہ قافلہ میرے ساتھ رہا۔ اس بناء پر یہ سفر ایک چلتا پھرتا اجتماع بن گیا۔ ایک ہفتہ کے پورے سفر میں رات اور دن گفتگوؤں اور تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری رہا ان میں سے کچھ باتیں اس سفر نامہ میں شامل ہیں۔ ڈھاکہ جاتے ہوئے راستہ میں ہم لوگ موتی ہاری سے گزرے، یہ بہار کا مشہور شہر ہے۔ بہار کے پچھلے سفر جون ۲۰۰۰ کے موقع پر موتی ہاری میں میرا ایک خطاب ہوا تھا۔ دہلی واپسی کے بعد وہاں کے ایک مسلم نوجوان نے بتایا کہ موتی ہاری کے ایک طالب علم دہلی میں پڑھتے ہیں وہ اپنے وطن سے یہ خبر لائے ہیں کہ مولانا وحید الدین موتی ہاری آئے تھے، یہاں تو انہوں نے کلنٹن اور امریکہ کی باتیں کیں۔ کچھ معلوم نہیں کہ اس سے ان کا مقصد کیا تھا۔
میں نے کہا کہ یہ اسی قسم کا اعتراض ہے جیسے قدیم مدینہ کے یہود نے قرآن کے بارے میں کہا تھا کہ یہ کیسا خدائی کلام ہے کہ اس میں مکھی اور مچھر کی باتیں ہوتی ہیں۔ (القرطبی ار ۲۴۲) مفسرین لکھتے ہیں کہ یہود اس طرح قرآن کا مذاق اڑاتے تھے۔ مگر یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ جو لوگ اپنے تعصبات کی بنا پر حق کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہ ہوں، وہ ہمیشہ تضحیک کا انداز اختیار کرتے ہیں۔ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues