Al-Risala · March 2001 · page 19

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۱۹

قوانین کو لوگوں کے اوپر نافذ کیا جائے ۔ مکمل ضابطہ حیات کا اصل مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان اسلام سے اپنی زندگی کے لئے رہنمائی حاصل کرے ۔ جب بھی اس کے سامنے کوئی صورت حال آئے خواہ اس کا تعلق گھر کے اندر سے ہو یا گھر کے باہر سے ، تو وہ قرآن وسنت میں تلاش کر کے معلوم کرے کہ اس صورت حال میں اس کے لئے کیا رہنمائی ہے۔ اور پھر جورہنمائی ملے اس کو بے چوں چرا قبول کرلے۔ اسلام کا مکمل ضابطہ ہونا ذاتی پیروی کے معنی میں ہے نہ کہ خارجی نفاذ کے معنی میں۔

میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ۱۹۷۲ء کے بعد مسلسل تمام لکھنے اور بولنے والے مسلمان صرف یہ کرتے رہے ہیں کہ وہ سازشوں کا انکشاف کر رہے ہیں، وہ مسلمانوں کو یہ خبر دیتے رہے ہیں کہ یہاں ان کے لئے دوسرا اسپین بنایا جانے والا ہے۔ اور مسلمانوں کو بتا رہے ہیں کہ ان کے لئے یہاں ترقی کے مواقع نہیں ہیں۔ ہر آدمی مایوسی کی بولی بول رہا ہے۔ حالانکہ قرآن میں مایوسی نے روکا گیا ہے (یوسف ۸۷)۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر حال میں امید اور حوصلہ کی بات کہی جائے، سخت ترین حالات میں بھی مایوسی کی بات نہ کی جائے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ غزوہ خندق کے موقع پر دشمنوں کی طرف سے اتنا سخت محاصرہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو ضروریات تک کے لئے باہر جانا مشکل ہو گیا۔ مگر اس وقت بھی رسول اللہ اپنے اصحاب کو یہ بشارت دے رہے تھے کہ تم لوگ قیصر وکسریٰ کے خزانے حاصل کروگے۔ معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت ترین حالات میں بھی مسلمانوں سے مایوسی کی بات نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ہر حال میں لوگوں کو اچھی خبر دیتے تھے۔ اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے کا تقاضہ یہ تھا کہ نئے ہندوستان میں اسلام کی اس تعلیم کے مطابق مسلمانوں کے سامنے ملک کی امید افزا تصویر پیش کی جائے۔ مگر یہ لکھنے والے اور بولنے والے لوگ ایک طرف اس پر فخر کرتے تھے کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے، مگر عین اسی وقت وہ مذکورہ اسلامی ضابطے کو مکمل طور پر ترک کئے ہوئے تھے۔ ۳۰ منٹ کی تقریر کے خاتمہ پر لوگوں نے مختلف قسم کے سوالات کئے جس کا جواب میں دیر تک دیتا رہا۔ ایسا محسوس ہو تا تھا کہ ابھی لوگ بہت دیر تک مزید سننا چاہتے ہیں مگر پروگرام کے مطابق وہاں سے مجھے روانہ ہونا پڑا۔ جناب مطیع الرحمن صاحب سابق ایم ایل اے کے مکان پر ایک مختصر اجتماع ہوا۔ یہاں کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ جناب مطیع الرحمن صاحب میری تحریریں پڑھتے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ آپ کا فکر عصری فکر کے مطابق ہے۔ آپ موجودہ نسل کو عصری معیار کے مطابق رہنمائی دینے کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں میں جو اعتقادی و مسلکی جھگڑے ہیں ان سے مجھ کو کوئی دلچسپی نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان جھگڑوں سے بچتے ہوئے ملت کو

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page