Al-Risala · March 2001 · page 20

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۲۰

آگے بڑھانا چاہئے اور یہی بات میں نے آپ کی تحریروں میں پائی ہے۔

یکم نومبر کو نماز مغرب کے بعد مقامی ہائی اسکول کے وسیع گراؤنڈ میں عمومی اجتماع ہوا۔ ایک اندازہ کے مطابق حاضرین کی تعداد تقریباً تین ہزار تھی۔ یہاں میں نے اپنی ۲۵ منٹ کی تقریر میں خاص طور پر یہ کہا کہ اس ملک میں جو مسئلہ ہے وہ ہندو بمقابلہ مسلم یا مسلم بمقابلہ ہندو کا نہیں ہے۔ بلکہ ہندو اور مسلمان دونوں کا مقابلہ فطرت سے ہے۔ دونوں ہی فرقوں کو فطرت کے نظام کو اور تاریخی عوامل کو سمجھنا ہے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کرنا ہے۔ فطرت کے قوانین کو نظر انداز کر کے نہ مسلمان ترقی کر سکتے ہیں اور نہ ہندو۔ لوگوں نے بتایا کہ آج اتفاق سے ہندوؤں کا ایک مقدس تہوار ہے جس کو وہ لوگ چھٹھ تیوہار کہتے ہیں۔ جو وقت جلسہ کا تھا عین وہی وقت ہندوؤں کی پوجا کا تھا۔ اس لئے اس عمومی جلسہ میں ہندو نسبتاً کم آسکے۔ اگر یہ رکاوٹ نہ ہوتی تو یقیناً ہندو لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوتے۔

یکم نومبر کو شام کا کھانا عطاء اللہ ڈھاکوی صاحب کے یہاں تھا۔ یہاں کافی لوگ اکٹھا ہوئے اور دیر تک مختلف دینی و ملی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ لوگ اپنے شبہات پیش کرتے رہے۔ اور میں اللہ کی توفیق سے ان کا جواب دیتا رہا۔

ایک صاحب جو مدرسہ سے فارغ تھے انہوں نے کہا کہ آپ نے علماء کے کارناموں پر کچھ نہیں لکھا۔ اس کا سبب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ شاید آپ ماہنامہ الرسالہ کا مطالعہ نہیں کرتے ہیں۔ ابھی ستمبر ۲۰۰۰ کا شمارہ جو خصوصی طور پر ۸۰ صفحات میں شائع ہوا ہے وہ پورا کا پورا شمارہ علماء کے کارناموں ہی پر مشتمل ہے۔ جناب عطاء اللہ صاحب ڈھاکوی کے یہاں شام کے کھانے کے بعد ہم لوگ جناب مطیع الرحمن صاحب سابق ایم ایل اے کے یہاں گئے اور رات ان کے مکان پر گزاری۔ فجر کی نماز کے بعد میں نے درس حدیث کی صورت میں کچھ باتیں کہیں۔ میں نے کہا کہ اسلام کی جو عبادات ہیں وہ کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ دین ایک زندہ عمل ہے نہ کہ پراسراریت کا کوئی مجموعہ۔ موجودہ زمانہ میں لوگوں کا حال یہ ہے کہ لوگ نماز پڑھتے ہیں مگر دین ان کی عملی زندگیوں میں شامل نہیں۔ اس کا سبب یہی ہے کہ وہ نماز کو شعوری یا غیر شعوری طور پر رسمی افعال کا ایک پر اسرار مجموعہ سمجھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نماز سے ان کا ذہن بیدار نہیں ہوتا۔ وہ ان کو با شعور انسان نہیں بناتی۔ ایسی نماز انسان کی زندگی میں بس ایک ضمیمہ کے طور پر رہے گی۔ پھر میں نے لوگوں کو ایک حدیث سنائی۔ وہ حدیث یہ ہے کہ من صلى الصبح لهو في ذمة الله (مسلم كتاب المساجد) پھر اس حدیث کی مختصر تشریح کی۔ ۲ نومبر کی صبح کو فجر کے بعد محمد نسیم احمد ولد جمیل احمد کے مکان پر اجتماع ہوا۔ کافی لوگ جمع ہوئے۔ یہاں پر اتحاد کے موضوع پر ایک تقریر ہوئی۔ میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page