تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۲۱
نے کہا کہ اس وقت مسلمانوں میں ایک عجیب و غریب منظر دکھائی دیتا ہے۔ وہ یہ کہ قوم کے کروڑوں لوگ روزانہ پانچ وقت کی باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ عین اسی وقت کہیں بھی مسلمانوں کے درمیان اتحاد موجود نہیں۔ حالانکہ نماز باجماعت اتحاد کا عظیم سبق ہے۔ نماز باجماعت اس بات کی عملی تربیت ہے کہ تم لوگ خواہ دس ہو یادس ہزار ہو یا اس سے زیادہ ہو، اپنے میں سے ایک شخص کو آگے کھڑا کر کے بقیہ سب کے سب ایک سیٹ پر چلے جاؤ۔ یہ طریقہ اتحاد کا سب سے زیادہ طاقتور ذریعہ ہے۔ جس قوم میں ہر آدمی اپنی بات چلانا چاہے اس میں بے اتحادی ہوگی اور جس قوم میں یہ مزاج ہو کہ سب لوگ اپنی بات کو پیچھے کر کے ایک شخص کی بات مان لیں تو اسی کے نتیجہ کا نام اتحاد ہے۔ مگر آج نماز باجماعت کا یہ نتیجہ کہیں موجود نہیں۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ مسجد میں نماز باجماعت تو ادا کرتے ہیں مگر نماز باجماعت کے شعور سے وہ یکسر خالی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسجد میں جا کر نماز ادا کرو اور اس کے بعد پر اسرار طور پر اس کی برکتیں ہمیں حاصل ہو جائیں گی۔ ضرورت ہے کہ نماز کو ایک زندہ عمل کے طور پر لوگوں کے درمیان قائم کیا جائے نہ کہ ایک پر اسرار قسم کے رسمی عمل کے طور پر۔
۲ نومبر کی صبح کو آزاد مدرسہ اسلامیہ ڈھاکہ کا معائنہ کیا۔ یہ مدرسہ ۱۹۳۲ میں قائم کیا گیا۔ اس مدرسہ کا قیام مولانا حسین احمد مدنی کی تحریک پر عمل میں آیا۔ اس مدرسہ کے ناظم قاری محمد انوار الحق اور صدر مدرس مولانا عبد السلام صاحب ہیں۔ یہاں طلباء و اساتذہ کے سامنے ایک مختصر خطاب کیا۔ اس موقع پر میں نے مختصر طور پر علم کی اہمیت بتائی۔ میں نے کہا کہ اس دنیا میں علم ہی طاقت کا سر چشمہ ہے۔ قدیم زمانہ میں اہل اسلام دنیا میں غالب ہوئے تو اس کا راز شمشیر نہیں تھا بلکہ علم تھا۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں اہل مغرب نے دنیا میں جو غلبہ حاصل کیا ہے اس کا راز بھی اہل مغرب کی سازش نہیں ہے بلکہ علم ہے۔ علم طاقت ہے (Knowledge is Power)۔ یہ اصول ہر ایک کے لئے ہے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو بیک وقت دو چیزوں میں کمال حاصل کرنا ہے۔ دین اور علم۔ دونوں میں سے کسی ایک کی کمی بیک وقت دونوں ہی کے لئے نقصان کا باعث ہوگی۔
نسیم احمد صاحب کے مکان پر خطاب کے بعد جب میں وہاں سے اٹھ کر جانے لگا تو ایک پر جوش نوجوان نے نعرہ لگایا۔ ” مولانا وحید الدین زندہ باد“ میں نے کہا کہ دنیوی تحریکیں شور کے اوپر کھڑی ہوتی ہیں، لیکن سچی اسلامی تحریک ہمیشہ خاموشی پر کھڑی ہوتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ من صمت نجا۔ (جو چپ رہا اس نے نجات پائی)۔
اس حدیث کا تعلق شخصی کردار سے بھی ہے اور اجتماعی پالیسی سے بھی۔ خاموشی کوئی انفعالی روش
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues